سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: ایک ساتھ تین طلاقیں دے دینے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ:" أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ، لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَيَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ، جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتَ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا"، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ عُوَيْمِرٌ، قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: عاصم! بتاؤ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ (وہ قتل کر دے) تو لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے! بتاؤ وہ کیا اور کیسے کرے؟ عاصم! اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر مجھے بتاؤ، عاصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ مسئلہ) پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کے سوالات برے لگے اور آپ نے اسے ناپسند فرمایا ۱؎، عاصم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو بڑی گراں گزری ۲؎، جب عاصم رضی اللہ عنہ لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے مجھے کوئی اچھی بات نہیں سنائی، جو مسئلہ تم نے پوچھا تھا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! یہ مسئلہ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر رہوں گا، (یہ کہہ کر) عویمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہو گئے اور آپ جہاں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے وہاں پہنچ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے ایک شخص اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ (اگر وہ اسے قتل کر دے) تو آپ لوگ اسے (اس کے بدلے میں) قتل کر ڈالیں گے! (ایسی صورت حال پیش آ جائے) تو وہ کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں قرآن نازل ہوا ہے، جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ“، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (وہ لے کر آئے) پھر دونوں (یعنی عویمر اور اس کی بیوی نے) لعان کیا، میں بھی اس وقت لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ پھر جب عویمر رضی اللہ عنہ لعان سے فارغ ہوئے تو کہا: اللہ کے رسول! اگر میں نے (اس لعان کے بعد) اس کو اپنے گھر رکھا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں جھوٹا ہوں (اور میں نے اس پر تہمت لگائی ہے) یہ کہہ کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے اسے (دھڑا دھڑ) تین طلاقیں دے دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3431]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ (اپنے سردار) حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: عاصم! بتائیے اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کردے؟ پھر اسے لوگ (قصاص میں) قتل کردیں گے یا وہ کیا کرے؟ آپ میرے لیے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں۔ چنانچہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے سوالات کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب سمجھا حتیٰ کہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی بات بہت شاق گزری۔ پھر جب عاصم اپنے گھر واپس آئے تو عویمر نے آ کر کہا: عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا کہا ہے؟ عاصم کہنے لگے: تو میرے پاس کوئی اچھی چیز نہیں لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے اس سوال کو ناپسند فرمایا ہے۔ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تو باز نہیں آؤں گا حتیٰ کہ میں یہ مسئلہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں۔ عویمر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے اور انہوں نے (آکر) کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کوئی اور آدمی دیکھ لیتا ہے تو کیا وہ اسے قتل کردے؟ پھر آپ اسے قتل کردیں گے یا وہ کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں وحی اتر چکی ہے، لہٰذا تو جا اور اسے لے آ۔“ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر انہوں نے آپس میں لعان کیا۔ اس وقت میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ جب عویمر لعان سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر اب بھی میں اسے اپنے نکاح میں رکھوں تب تو گویا میں نے اس پر جھوٹ باندھا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی انہوں نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 44 (423)، تفسیر سورة النور 1 (4754)، 2 (4746)، الطلاق 4 (5259)، 29 (5308)، 30 (5309)، الحدود 43 (6854)، الأحکام 18 (7166)، الاعتصام 5 (7304)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1492)، سنن ابی داود/الطلاق27 (2245)، سنن ابن ماجہ/الطلاق27 (2066)، (تحفة الأشراف: 4805)، موطا امام مالک/الطلاق 13 (34)، مسند احمد (5/331، 334، 335، 336، 337)، سنن الدارمی/النکاح 39 (2275) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا کہ آپ اس سے باخبر نہیں تھے کہ یہ واقعہ پیش آ چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ نے کسی چیز کے وقوع سے پہلے اس کے متعلق استفسار کو فضول سمجھا۔ ۲؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم رضی الله عنہ کے سوال کو جو ناپسند کیا اور اسے اچھا نہیں سمجھا اس سے عاصم رضی الله عنہ رنجیدہ ہوئے اور انہیں پشیمانی بھی ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3432
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْمَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَنَا بِنْتُ آلِ خَالِدٍ، وَإِنَّ زَوْجِي فُلَانًا، أَرْسَلَ إِلَيَّ بِطَلَاقِي، وَإِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَهُ النَّفَقَةَ وَالسُّكْنَى فَأَبَوْا عَلَيَّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَيْهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا النَّفَقَةُ، وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ، إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ".
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہا: میں آل خالد کی بیٹی ہوں اور میرے شوہر فلاں نے مجھے طلاق کہلا بھیجی ہے، میں نے ان کے گھر والوں سے نفقہ و سکنی (اخراجات اور رہائش) کا مطالبہ کیا تو انہوں نے مجھے دینے سے انکار کیا، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے بھیجی ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفقہ و سکنی اس عورت کو ملتا ہے جس کے شوہر کو اس سے رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3432]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: میں آلِ خالد میں سے ایک عورت ہوں۔ میرے خاوند نے مجھے (آخری) طلاق بھیج دی ہے۔ میں نے خاوند کے گھر والوں سے اپنے لیے رہائش اور اخراجات طلب کیے تو انہوں نے انکار کر دیا ہے۔ انہوں (خاوند کے گھر والوں) نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! اس کے خاوند نے اسے تین طلاقیں بھیج دی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اخراجات و رہائش تو اس (مطلقہ) عورت کو ملتے ہیں جس کے خاوند کو اس سے رجوع کا حق ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن الترمذی/الطلاق 5 (1180)، سنن ابی داود/الطلاق 40 (2291)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 10 (3036)، (تحفة الأشراف: 18025)، ویأتي بأرقام3577، 3578، 3579 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور تین طلاق کے بعد رجوع نہیں کر سکتا اس لیے عورت کو نفقہ و سکنیٰ بھی نہیں ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا، لَيْسَ لَهَا سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةٌ".
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طلاق پائی ہوئی عورت کو نہ سکنی ملے گا اور نہ نفقہ“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3433]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کو تین طلاقیں ہو چکی ہوں اسے دورانِ عدت میں خرچہ و رہائش نہیں ملیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3434
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَ فَاطِمَةَ ثَلَاثًا، فَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ؟ فَقَالَ:" لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ، وَلَا سُكْنَى".
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دیں، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول! ابوعمرو بن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو کیا اسے (عدت کے دوران) نفقہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ سکنی“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3434]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے (میرے خاوند) ابو عمرو بن حفص مخزومی نے تین طلاقیں دے دیں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابو عمرو بن حفص نے اپنی بیوی فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تو کیا اسے دورانِ عدت اخراجات ملیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہ اخراجات ملیں گے اور نہ رہائش۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3246 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم