سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ: خِيَارِ الْمَمْلُوكَيْنِ يُعْتَقَانِ
باب: آزاد کیے گئے غلام میاں بیوی کو اختیار حاصل ہو گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 3476
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَ لِعَائِشَةَ غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ، قَالَتْ: فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ابْدَئِي بِالْغُلَامِ قَبْلَ الْجَارِيَةِ".
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی تھی (یہ دونوں میاں بیوی تھے) میرا ارادہ ہوا کہ ان دونوں کو میں آزاد کر دوں۔ میں نے اس ارادہ کا اظہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا تو آپ نے فرمایا: ”لونڈی سے پہلے غلام کو آزاد کرو (پھر لونڈی کو)“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 22 (2237)، سنن ابن ماجہ/العتق 10 (2532) (تحفة الأشراف: 17534) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن بن موہب ضعیف ہیں)»
وضاحت: ۱؎: غالباً ایسا عورت کے مقابلے میں مرد کی بزرگی و بڑائی کے باعث کہا گیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن