سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: بَدْءِ اللِّعَانِ
باب: لعان کے آغاز کا بیان۔
حدیث نمبر: 3496
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: جَاءَنِي عُوَيْمِرٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ، فَقَالَ:" أَيْ عَاصِمُ، أَرَأَيْتُمْ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ يَا عَاصِمُ؟ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ، وَكَرِهَهَا، فَجَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ يَا عَاصِمُ؟ فَقَالَ: صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيكَ، وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَأْتِ بِهَا، قَالَ سَهْلٌ: وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بِهَا، فَتَلَاعَنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْسَكْتُهَا لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهَا، فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ".
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عجلان کا ایک شخص عویمر میرے پاس آیا اور کہنے لگا: عاصم! بھلا بتاؤ تو صحیح؟ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر شخص کو دیکھتا ہے، اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے تو کیا تم لوگ اسے قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ عاصم میرے واسطے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو تو عاصم رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو برا جانا اور ناپسند کیا، عویمر ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! کیا کیا تو نے؟ (مسئلہ پوچھا یا نہیں؟) انہوں نے کہا: میں نے کیا تو (یعنی پوچھا تو) لیکن تو اچھا سوال لے کر نہیں آیا تھا (جواب کیا ملتا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند کیا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھ کر رہوں گا (یہ کوئی فرضی سوال نہیں امر واقع ہے) پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں حکم نازل فرما دیا ہے۔ تو (جاؤ) اسے لے کر آؤ“، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، وہ اسے لے کر آئے اور دونوں نے لعان کیا ۱؎۔ پھر اس نے (یعنی عویمر نے) کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی اگر میں نے اسے اپنے پاس رکھا تو میں اس پر تہمت لگانے والا ٹھہروں گا (یہ کہہ کر) انہوں نے اسے طلاق دے کر چھوڑ دیا اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ دینے کا حکم دیتے۔ (راوی کہتے ہیں) پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہو گیا (یعنی لعان کے بعد میاں بیوی دونوں جدا ہو جائیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3496]
حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عجلان کے ایک شخص عویمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے: اے عاصم! بتاؤ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھ لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ کہ پھر تم اسے قتل کر دو گے۔ آخر وہ کیا کرے؟ اے عاصم! آپ یہ مسئلہ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے سوالات پوچھنے کو پسند نہ فرمایا، بلکہ مذمت کی۔ عویمر رضی اللہ عنہ دوبارہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: عاصم! آپ نے کیا کیا؟ عاصم نے کہا: تم میرے پاس کوئی اچھا سوال نہیں لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے سوالات کو ناپسند فرمایا ہے بلکہ مذمت فرمائی ہے۔ عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں ضرور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیری بیوی اور تیرے بارے میں وحی نازل فرما دی ہے۔ جا، اسے لے آ۔“ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ عویمر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کو لے کر آئے، پھر دونوں نے لعان کیا۔ عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر اب بھی میں نے اسے اپنے نکاح میں رکھا تو پھر تو (گویا) میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے قبل ہی اسے طلاق دے دی، پھر یہ لعان کرنے والوں کے لیے شرعی طریقہ بن گیا (کہ ان کے درمیان حتمی جدائی ہو جائے گی)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5031)، مسند احمد (5/337) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لعان کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مرد چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دے کہ میں سچا ہوں اور پانچویں بار کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی طرح عورت بھی اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں بار کہے اگر اس کا شوہر سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح