سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ: عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: بیوہ کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3530
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، وہ شوہر کے انتقال پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3530]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 30 (1280، 1281)، والطلاق 46 (5334)، 47 (5338)، 50 (5345)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (1486)، سنن ابی داود/الطلاق 43 (2299)، سنن الترمذی/الطلاق 18 (1195)، (تحفة الأشراف: 15874)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق 34 (2084)، موطا امام مالک/الطلاق 35 (101)، مسند احمد (6/325، 326، 426)، سنن الدارمی/الطلاق 12 (2330)، ویأتي عند المؤلف في 59، 63 (بأرقام3557، 3563) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3531
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قُلْتُ: عَنْ أُمِّهَا، قَالَ: نَعَمْ , إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ امْرَأَةٍ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا، أَتَكْتَحِلُ؟ فَقَالَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا حَوْلًا، ثُمَّ خَرَجَتْ، فَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا شوہر مر گیا ہو اور سرمہ (و کاجل) نہ لگانے سے اس کی آنکھوں کے خراب ہو جانے کا خوف و خطرہ ہو تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(زمانہ جاہلیت میں) تمہاری ہر عورت (اپنے شوہر کے سوگ میں) اپنے گھر میں انتہائی خراب، گھٹیا و گندا کپڑا (اونٹ کی کاٹھ کے نیچے کے کپڑے کی طرح) پہن کر سال بھر گھر میں بیٹھی رہتی تھی، پھر کہیں (سال پورا ہونے پر) نکلتی تھی۔ اور اب چار مہینے دس دن بھی تم پر بھاری پڑ رہے ہیں؟“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3531]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہو چکا تھا اور اس کی آنکھوں کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا، کیا وہ سرمہ ڈال سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دورِ جاہلیت میں) ایک عورت کو اپنے گھر میں ایک سال تک بدترین ٹاٹ میں رہنا پڑتا تھا، پھر وہ نکلی تھی، تو کیا اب وہ چار مہینے دس دن تک انتظار نہیں کر سکتی؟“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 46 (5336)، 47 (5340)، والطب 18 (5706)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (1488)، سنن ابی داود/الطلاق 43 (2299)، سنن الترمذی/الطلاق 18 (1197)، تحفة الأشراف: 18259)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 34 (2084)، موطا امام مالک/الطلاق 35 (103)، مسند احمد (6/291، 311، 326)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3563، 3568-3571) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسلام کی رو سے وہ چار ماہ دس دن صبر نہیں کر سکتی؟ یہ مدت تو سال کے مقابلہ میں اللہ کی جانب سے ایک رحمت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3532
أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَجَدُّهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتَا: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، أَفَأَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَجْلِسُ حَوْلًا، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَإِذَا كَانَ الْحَوْلُ خَرَجَتْ، وَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر (یعنی میرے داماد) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے (عدت میں بیٹھی) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں (سوگ منانے والی) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ باہر نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3532]
حضرت ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہنے لگی: میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے۔ مجھے اس کی آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ہے، تو کیا میں اسے سرمہ ڈال دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس سے پہلے جاہلیت میں) عورت کو ایک سال تک گھر میں (بند) رہنا پڑتا تھا جب کہ اب تو صرف چار ماہ دس دن ہیں۔ جب سال پورا ہوتا تھا تو وہ نکلتی تھی اور اپنے پیچھے اونٹ کی مینگنی پھینکا کرتی تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3533
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ: عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے سوائے شوہر کے، شوہر کے انتقال پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3533]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، علاوہ خاوند کے کہ اس پر اسے چار مہینے دس دن سوگ کرنا ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 9 (1490)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 35 (2084)، (تحفة الأشراف: 15817)، موطا امام مالک/الطلاق 35 (104)، مسند احمد (6/184، 286، 287) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3534
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
بعض امہات المؤمنین اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے، شوہر کے مرنے پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3534]
حضرت ام سلمہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، علاوہ خاوند کے کہ اس پر وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18283) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3535
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا السَّهْمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُمُّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
صفیہ بنت ابو عبید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی سے اور بیوی سے مراد ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر گزری ہوئی حدیث جیسی حدیث بیان کرتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3535]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی طرح ہی روایت بیان فرماتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن