🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. بَابُ: مَا اسْتُثْنِيَ مِنْ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَاتِ
باب: عدت سے مستثنیٰ مطلقہ عورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3529
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ," فِي قَوْلِهِ: مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا سورة البقرة آية 106، وَقَالَ: وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ سورة النحل آية 101، وَقَالَ: يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ سورة الرعد آية 39، فَأَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ، وَقَالَ: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ سورة البقرة آية 228، وَقَالَ: وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاثَةُ أَشْهُرٍ سورة الطلاق آية 4، فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ تَعَالَى: ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا سورة الأحزاب آية 49".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما (سورۃ البقرہ کی) آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں۔ (البقرہ: ۱۰۶) (اور سورۃ النمل کی) آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل‏» اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے۔ (النحل: ۱۰۱) (اور سورۃ الرعد کی) آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے لوح محفوظ اسی کے پاس ہے۔ (الرعد: ۳۹) کے بارے میں فرماتے ہیں: ان آیات کی روشنی میں پہلی چیز جو منسوخ ہوئی وہ قبلہ کی تبدیلی ہے ۱؎، اور (اس کے بعد) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (اور یہ جو سورۃ البقرہ کی) آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔ (البقرہ: ۲۲۸) اور (سورۃ الطلاق کی) آیت: «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ (الطلاق: ۴) آئی ہے تو ان دونوں آیات سے (ان کا عموم) منسوخ ہو گیا (سورۃ الاحزاب کی اس) آیت: «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» سے اگر تم مومنہ عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو۔ (الاحزاب: ۴۹)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3529]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے (نسخ کے دلائل ذکر کرتے ہوئے) یہ آیات پڑھیں: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ.....أَوْ مِثْلِهَا﴾ [سورة البقرة: 106] جو آیت ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں، ہم اس سے بہتر آیت لاتے ہیں یا اس جیسی۔ اور فرمایا: ﴿وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً.....بِمَا يُنزلُ﴾ [سورة النحل: 101] جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت لے آتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی اتری ہوئی آیات کو خوب جانتا ہے۔ اور فرمایا: ﴿يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ.....أُمُّ الْكِتَابِ﴾ [سورة الرعد: 39] اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہے باقی رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس اصل کتاب ہے۔ قرآن مجید میں سب سے پہلے قبلہ منسوخ ہوا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ [سورة البقرة: 228] طلاق شدہ عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو (نیا نکاح کرنے سے) روک رکھیں۔ پھر فرمایا: ﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنْ الْمَحِيضِ.....ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ﴾ [سورة الطلاق: 4] وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو چکی ہیں، اگر تمہیں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ (اس آیت کے ذریعے سے) پہلی آیت میں سے کچھ حصہ منسوخ کر دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ.......تَعْتَدُّونَهَا﴾ [سورة الأحزاب: 49] اگر تم عورتوں کو جماع سے پہلے طلاق دو تو ان پر کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 37 (2282)، (تحفة الأشراف: 6253)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3584 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بیت المقدس کے بجائے قبلہ خانہ کعبہ بنا دیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں