🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

61. بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَنْ تَعْتَدَّ حَيْثُ شَاءَتْ
باب: شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3561
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:" عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ"، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آیت «متاعا الی الحول غیر اخراج» ... «الی آخرہ» جس میں متوفیٰ عنہا زوجہا کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے (اور اس کا ناسخ اللہ تعالیٰ کا یہ قول: «فإن خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في أنفسهن من معروف» (البقرة: 240) ہے، اب عورت جہاں چاہے اور جہاں مناسب سمجھے وہاں عدت کے دن گزار سکتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر البقرة 41 (4531)، والطلاق50 (5355)، سنن ابی داود/الطلاق 45 (2301)، (تحفة الأشراف: 5900) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سلسلہ میں فریعہ بنت مالک کی حدیث سے استدلال کرنے والوں کی دلیل مضبوط ہے، کیونکہ اس حدیث کا معارضہ کرنے والے کوئی ٹھوس اور مضبوط دلیل نہ پیش کر سکے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں