سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي حَمْلِ الْحَمِيرِ عَلَى الْخَيْلِ
باب: گھوڑیوں پر گدھے چڑھا کر خچر پیدا کرنا معیوب بات ہے۔
حدیث نمبر: 3610
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ، فَرَكِبَهَا فَقَالَ:" عَلِيٌّ لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ لَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ".
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ میں خچر دیا گیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھا (کر جفتی کرا) دیں تو ہمارے پاس اس جیسے (بہت سے خچر) ہو جائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو نادان و ناسمجھ ہوتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3610]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر تحفے میں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے۔ میں نے کہا: اگر ہم گھوڑی کو گدھے سے جفتی کروا لیں تو ہمارے پاس بھی اس جیسا خچر ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کام تو بے علم اور جاہل لوگ کرتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 59 (2565)، (تحفة الأشراف: 10184)، مسند احمد (1/98، 100، 158) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ گھوڑوں میں جو بات ہے وہ خچروں میں نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3611
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، قَالَ خَمْشًا: هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِأَمْرِهِ فَبَلَّغَهُ، وَاللَّهِ مَا" اخْتَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةٍ:" أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ".
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اس وقت ان سے کسی نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں کچھ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا ہو سکتا ہے اپنے من ہی من میں پڑھتے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم پر پتھر لگیں گے یہ تو پہلے سے بھی خراب بات تم نے کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے تھے، اللہ نے آپ کو اپنا پیغام دے کر بھیجا، آپ نے اسے پہنچا دیا۔ قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامۃ الناس سے ہٹ کر ہم اہل بیت سے تین باتوں کے سوا اور کوئی خصوصیت نہیں برتی۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کریں، ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں اور نہ ہی گدھوں کو گھوڑیوں پر کدائیں (جفتی کرائیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3611]
حضرت عبداللہ بن عبید اللہ بن عباس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، اتنے میں ایک آدمی نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس آدمی نے کہا: ممکن ہے کہ آپ دل میں پڑھتے ہوں؟ وہ کہنے لگے: اللہ کرے تو زخمی ہو، یہ تو پہلے سے بری بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو بھی کام دیے، آپ نے آگے پہنچا دیے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (اہل بیت) کو لوگوں سے الگ کوئی خصوصی حکم نہیں دیا مگر یہ تین چیزیں (ہوں تو ہوں): آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہم وضو اچھی طرح کریں، ہم صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی کو گدھے سے جفتی نہ کرائیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 141 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن