سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُفْيَانَ
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3690
قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور جسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ مر گئیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”اسے تم ان کی طرف سے پوری کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3690]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمے تھی لیکن وہ اسے پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے تم اسے پورا کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3689 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3691
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَهُ عَنْهَا".
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3691]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ محترمہ فوت ہو گئیں، جبکہ ان کے ذمے ایک نذر تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے وہ نذر ان کی طرف سے ادا کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3689 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3692
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3692]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ محترمہ کے ذمے تھی، لیکن وہ اس کی ادائیگی سے پہلے ہی فوت ہو گئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی طرف سے ادا کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3686 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3693
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ، قَالَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں انتقال کر گئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کر سکی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3693]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: میری والدہ محترمہ فوت ہوگئی ہیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جسے وہ پورا نہ کرسکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے تم پوری کردو۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3689 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3694
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ".
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(پیاسوں کو) پانی پلانا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3694]
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ محترمہ فوت ہو گئی ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 41 (1680)، سنن ابن ماجہ/الأدب 8 (3684)، (تحفة الأشراف: 3834)، مسند احمد (5/284، 285 و6/7)، ویأتي فیما یلي: 3695، 3696 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: نل لگوا دینا، کنواں، تالاب وغیرہ کھودوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
حدیث نمبر: 3695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ".
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3695]
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ پانی آب حیات ہے زیادہ دیر تک نہ ملے تو آدمی زندہ نہیں رہ سکتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
حدیث نمبر: 3696
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ" , فَتِلْكَ سِقَايَةُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ.
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مر گئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ تو یہ ہے مدینہ میں سعد رضی اللہ عنہ کی پانی کی سبیل۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3696]
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی والدہ فوت ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری والدہ فوت ہو گئی ہیں تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: افضل صدقہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“ اسی بنا پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں سبیل قائم کر دی تھی (تاکہ مسافر وغیرہ کسی تنگی کے بغیر ہر وقت پانی پی سکیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3694 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348