🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ: الْحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ تَعَالَى .
باب: اللہ تعالیٰ کی عزت اور غلبے کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3794
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ , أَرْسَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَى الْجَنَّةِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَرَجَعَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ. قَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَى النَّارِ وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَرَجَعَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَدْخُلُهَا أَحَدٌ. فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ فَرَجَعَ، وَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جب جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل کو جنت کے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اسے دیکھا اور لوٹ کر آئے تو کہا: قسم ہے تیری عزت اور غلبے کی! ۱؎ جو کوئی بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہوئے بغیر نہ رہے گا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے مکروہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ۲؎، پھر کہا: جاؤ اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے، انہوں نے کہا: تیری عزت اور غلبے کی قسم! مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، کہا: جاؤ اور جہنم کو اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے پر چڑھا جا رہا ہے ۳؎، وہ لوٹ کر آئے اور بولے: تیری عزت اور غلبے کی قسم! اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو وہ دل کو بھانے والی چیزوں سے گھیر دی گئی۔ (پھر اللہ تعالیٰ نے) کہا: واپس جا کر اب اسے دیکھو۔ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ پسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے۔ وہ لوٹے اور کہا: تیرے غلبے کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں تو کوئی داخل ہونے سے نہ بچ سکے گا ۴؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3794]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا فرمایا تو حضرت جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا، پھر واپس آئے تو کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو جنت کو سختیوں اور طبعاً ناگوار گزرنے والی چیزوں سے گھیر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب پھر جاؤ اور دیکھو کہ میں نے جنت میں اپنے بندوں کے لیے کیا کچھ بنایا ہے۔ انہوں نے جا کر دیکھا تو جنت کے ارد گرد سختیوں اور مشکلات کی باڑ لگی ہوئی تھی، وہ آ کر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی شخص بھی اس میں داخل نہیں ہو (سکے) گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جاؤ آگ (جہنم) کو دیکھو اور جو کچھ میں نے اہل جہنم کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے جا کر دیکھا تو آگ کے شعلے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے، وہ واپس آ کر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! کوئی اس میں داخل نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو اس کے ارد گرد طبعاً مرغوب چیزوں کی باڑ لگا دی گئی۔ فرمایا: اب جا کر دیکھو۔ انہوں نے دیکھا تو اس کے ارد گرد خوشنما چیزوں کی باڑ لگ چکی تھی، وہ واپس آ کر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی شخص اس سے نہیں بچ سکے گا بلکہ ضرور داخل ہو جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15084)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 25 (4744)، سنن الترمذی/صفة الجنة 21 (2560)، مسند احمد (2/333، 373) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے۔ ۲؎: یعنی صلاۃ، صوم، زکاۃ اور جہاد جیسے نیک اعمال سے اسے گھیر دیا گیا، ان اعمال کی ادائیگی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انہیں اداء کرے، اور کتاب و سنت کے مطابق ان کی ادائیگی کے بغیر حصولِ جنت کا تصور ناممکن ہے، اس لیے کہ انہیں سارے اعمال صالحہ کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہو گا اور اس رحمت کے نتیجے میں وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ۳؎: یعنی اس میں اس قدر شدت پائی جاتی ہے کہ لگتا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے۔ ۴؎: کیونکہ انسان اگر خواہشات کے پیچھے پڑ گیا اور اپنے نفس پر کنٹرول نہ رکھ سکا تو ڈر ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے نہ بچ سکے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں