سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ: النَّذْرِ فِيمَا لاَ يُرَادُ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ
باب: ایسی چیز کی نذر ماننا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 3841
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلًا فِي قَرَنٍ , فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَطَعَهُ , قَالَ: إِنَّهُ نَذْرٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: ”یہ نذر ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3841]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک دوسرے آدمی کو رسی باندھ کر کھینچ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی پکڑ کر کاٹ دی۔ وہ کہنے لگا: میں نے یہ نذر مانی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2923 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نذر اس طرح سے بھی ادا ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح خ دون قوله إنه نذر
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3842
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ , أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ , فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ , ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ , أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ , وَإِنْسَانٌ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ خَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ , فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ , ثُمَّ قَالَ:" قُدْهُ بِيَدِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس (آدمی) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: ”اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3842]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ اسے ایک اور انسان اس کی ناک میں نکیل ڈال کر کھینچ رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اسے کاٹ دیا اور اسے حکم دیا کہ ”اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے چلا۔“ اس روایت میں یہ لفظ بھی آتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کے دوران میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنا ہاتھ کسی دوسرے آدمی کے ساتھ رسی یا دھاگے وغیرہ کے ساتھ باندھ رکھا تھا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اس رسی کو کاٹ دیا اور فرمایا: ”اسے ہاتھ پکڑ کر چلا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3842]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2923 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن