🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3953
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , وَنَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ". رَوَاهُ أَبُو النَّجَاشِيِّ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ , وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ.
عبداللہ بن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کا پختہ ہو جانا واضح ہو جائے۔ نیز آپ نے مخابرہ یعنی زمین کو تہائی یا چوتھائی (پیداوار) کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اسے ابوالنجاشی عطاء بن صہیب نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں ان سے روایت میں ان کے تلامذہ نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3953]
حضرت ابن عمر اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی فروخت سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ وہ پک جائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُخَابَرَةِ» مخابرہ سے بھی منع فرمایا ہے کہ زمین کو پیداوار کے تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض بٹائی پر دیا جائے۔ اسے ابوالنجاشی عطاء بن صہیب نے روایت کیا ہے اور اس حدیث میں اس پر اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، تحفة الأشراف: 2538) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3954
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّبَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَافِعٍ:" أَتُؤَاجِرُونَ مَحَاقِلَكُمْ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسَاقِ مِنَ الشَّعِيرِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا , أَوْ أَعِيرُوهَا , أَوِ امْسِكُوهَا". خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ , فَقَالَ: عَنْ رَافِعٍ، عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنے کھیتوں کو اجرت پر دیتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم انہیں چوتھائی اور کچھ وسق جو پر بٹائی دیتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، ان میں کھیتی کرو یا عاریتاً کسی کو دے دو، یا اپنے پاس رکھو۔ اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر کی مخالفت کی ہے اور «عن رافع عن ظہیر بن رافع» کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3954]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم اپنی فالتو زمینیں بٹائی پر دیتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! ہم انہیں پیداوار کے چوتھائی حصے یا چند وسق جو کے عوض بٹائی پر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کرو، خود کاشت کرو یا کسی کو ایک دو سال کے لیے (عارتیاً) بلا معاوضہ کاشت کے لیے دے دو، ورنہ رکھے رکھو۔ اوزاعی رحمہ اللہ نے اس (یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ) کی مخالفت کی ہے اور اس نے کہا ہے: «عَنْ رَافِعٍ عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ» رافع سے مروی ہے، وہ ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 18 (1548) سنن ابی داود/البیوع 32 (3394 تعلیقًا)، (تحفة الأشراف: 3574) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3955
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: أَتَانَا ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ، فَقَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا رَافِقًا، قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَقٌّ , سَأَلَنِي:" كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي مَحَاقِلِكُمْ؟". قُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَالْأَوْسَاقِ مِنَ التَّمْرِ أَوِ الشَّعِيرِ. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا، أَوِ امْسِكُوهَا". رَوَاهُ بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ رَافِعٍ فَجَعَلَ الرِّوَايَةَ لِأَخِي رَافِعٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس (ہمارے چچا) ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے آ کر کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو ہمارے لیے مفید و مناسب تھی۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور وہ سچا (برحق) ہے، آپ نے مجھ سے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی پیداوار اور کچھ وسق کھجور یا جو کے بدلے کرائے پر اٹھا دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو، یا تو ان میں خود کھیتی کرو یا پھر دوسروں کو کرنے کے لیے دے دو، یا انہیں یوں ہی روکے رکھو۔ بکیر بن عبداللہ بن اشج نے اسے اسید بن رافع سے روایت کیا ہے، اور اسے رافع کے بھائی سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3955]
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس حضرت ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہما آئے اور فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے مفید تھا۔ میں نے کہا: وہ کیا؟ وہ فرمانے لگے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہی صحیح اور برحق ہے۔ آپ نے مجھ سے پوچھا: تم اپنی (زائد) زمینوں کو کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہم انہیں پیداوار کے تہائی یا چوتھائی حصے اور چند وسق کھجوروں یا جو کے عوض بٹائی پر دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تو ایسے نہ کرو، انہیں خود کاشت کرو یا کسی کو بلامعاوضہ کاشت کے لیے دے دو یا اسی طرح رہنے دو۔ یہ روایت بکیر بن عبداللہ بن اشج رحمہ اللہ نے اسید بن رافع رحمہ اللہ سے بیان کی ہے تو اسے (حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کے بجائے) حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے بھائی کی روایت بنایا ہے۔ (دیکھیے، آئندہ روایت) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث18(2339)، صحیح مسلم/البیوع18(1548)، سنن ابن ماجہ/الرہون10(2459)، (تحفة الأشراف: 5029)، مسند احمد (1/168) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3956
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ لَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ أَخَا رَافِعٍ، قَالَ لِقَوْمِهِ: قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ كَانَ لَكُمْ رَافِقًا وَأَمْرُهُ طَاعَةٌ وَخَيْرٌ:" نَهَى عَنِ الْحَقْلِ".
اسید بن رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رافع کے بھائی نے اپنے قبیلے سے کہا: آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیز سے منع فرمایا ہے، جو تمہارے لیے سود مند تھی اور آپ کا حکم ماننا واجب، آپ نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3956]
(حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے) اسید سے روایت ہے کہ (والد محترم) رافع رضی اللہ عنہ کے بھائی نے اپنی قوم سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج ایک ایسی چیز سے روک دیا ہے جو تمہارے لیے مفید تھی۔ ویسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ہی کی اطاعت کی جائے گی اور وہی سب سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین بٹائی پر دینے سے روک دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15531) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3957
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَيْدَ بْنَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ يَذْكُرُ:" أَنَّهُمْ مَنَعُوا الْمُحَاقَلَةَ وَهِيَ أَرْضٌ تُزْرَعُ عَلَى بَعْضِ مَا فِيهَا". رَوَاهُ عِيسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعٍ.
عبدالرحمٰن بن ہرمز کہتے ہیں کہ میں نے اسید بن رافع بن خدیج انصاری کو بیان کرتے سنا کہ انہیں (یعنی صحابہ کو) بیع محاقلہ سے روک دیا گیا ہے، بیع محاقلہ یہ ہے کہ زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کھیتی کرنے کے لیے دے دیا جائے۔ اسے عیسیٰ بن سہل بن رافع نے بھی روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3957]
حضرت عبدالرحمن بن ہرمز رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اسید بن رافع بن خدیج انصاری رحمہ اللہ کو یہ ذکر کرتے سنا کہ ان کو «الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ) سے روک دیا گیا تھا۔ اور محاقلہ سے مراد یہ ہے کہ زمین اپنی پیداوار کے کچھ حصے کے عوض کاشت کے لیے دے دی جائے۔ یہ روایت عیسیٰ بن سہل بن رافع رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3958
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حَجْرِ جَدِّي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَبَلَغْتُ رَجُلًا , وَحَجَجْتُ مَعَهُ , فَجَاءَ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَقَالَ: يَا أَبَتَاهُ , إِنَّهُ قَدْ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ. فَقَالَ: يَا بُنَيَّ , دَعْ ذَاكَ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَجْعَلُ لَكُمْ رِزْقًا غَيْرَهُ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ".
عیسیٰ بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں یتیم تھا اور اپنے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پا رہا تھا، میں جوان ہوا اور میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل بن رافع بن خدیج آئے اور کہا: اے ابا جان (دادا جان)! ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم پر کرائے پردے دی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسے چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے علاوہ روزی دے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روک دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3958]
حضرت عیسیٰ بن سہل بن رافع بن خدیج رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں یتیم تھا اور اپنے دادا محترم حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے ہاں پرورش پا رہا تھا، میں بالغ ہوا تو ان کے ساتھ حج کو گیا، میرا بھائی عمران بن سہل آیا اور کہنے لگا: ابا جان! ہم نے اپنی فلاں زمین دو سو درہم کے عوض کرائے پر دے دی ہے، وہ کہنے لگے: بیٹا! اسے چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی بجائے اور جگہ سے رزق عطا فرمائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع32(3401)، (تحفة الأشراف: 3569) (شاذ) (اس کے راوی ”عیسیٰ بن سہل“ لین الحدیث ہیں اور اس میں شاذ بات یہ ہے کہ اس میں مطلق کرایہ پر دینے سے ممانعت ہے، جب کہ خود رافع رضی الله عنہ کی اس روایت کے کئی طرق میں سونا چاندی پر کرایہ پر دینے کی اجازت مذکور ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3401) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں