🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3943
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ , فَحُدِّثَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ،" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ" , فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَهَا.
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھیتوں کو کرائیے پر دیتے تھے، ان سے کہا گیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام بلاط کی طرف نکلے، میں ان کے ساتھ تھا، تو آپ نے رافع رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے روکا ہے، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3943]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ حضرت نافع رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بلاط میں ان کے پاس گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہما نے ان سے (اس کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں، واقعتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کا کرایہ لینے سے منع فرمایا ہے، اس لیے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے زمینوں کا کرایہ لینا چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3942 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3944
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ حَدِيثًا، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ أَنَا , وَالرَّجُلُ الَّذِي أَخْبَرَهُ , حَتَّى أَتَى رَافِعًا فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ" , فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَ الْأَرْضِ.
نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر دینے کے سلسلے میں حدیث بیان کرتے ہیں، تو میں اور وہ شخص جس نے انہیں بتایا تھا ان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زمین کرائے پر اٹھانی چھوڑ دی۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3944]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتلایا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کرائے پر دینے کے متعلق ایک حدیث نقل فرماتے ہیں۔ میں اور وہ آدمی جس نے آپ کو یہ بتایا تھا، آپ کے ساتھ چلے حتیٰ کہ آپ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روکا ہے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے زمین کرائے پر دینا چھوڑ دی۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3942 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3945
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ".
نافع سے روایت ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3945]
حضرت نافع سے منقول ہے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینیں کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3942 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3946
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عِنَانٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي أَرْضَهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا , فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَزْجُرُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ قَبْلَ أَنْ نَعْرِفَ رَافِعًا ثُمَّ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي حَتَّى دُفِعْنَا إِلَى رَافِعٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ رَافِعٌ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُكْرُوا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کو اس میں پیدا ہونے والے غلہ کے بعض حصے کے بدلے کرائے پر دیتے تھے، پھر انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس سے روکتے اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رافع رضی اللہ عنہ کو جاننے سے پہلے ہم زمین کرائے پر اٹھاتے تھے۔ پھر آپ نے اپنے دل میں کچھ محسوس کیا، تو اپنا ہاتھ میرے مونڈھے پر رکھا یہاں تک کہ ہم رافع کے پاس جا پہنچے، پھر ابن عمر نے رافع سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کرائے پر دینے سے منع فرماتے سنا ہے؟ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ کسی چیز کے بدلے زمین کرائے پر نہ دو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3946]
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین اس کی کچھ پیداوار کے عوض بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ ان کو معلوم ہوا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: ہم تو رافع کو پہچاننے سے بھی پہلے زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے اپنے دل میں شک سا محسوس کیا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھا حتیٰ کہ ہم حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما انہیں کہنے لگے: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین بٹائی پر دینے سے منع فرماتے سنا ہے؟ حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: زمین کو کسی بھی چیز کے عوض کرائے پر نہ دو۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 3942 (شاذ) (اس روایت میں ”بشیٔ“ کا لفظ شاذ ہے، باقی باتیں صحیح ہیں)»
وضاحت: ۱؎: «بشیٔ» (کسی چیز کے بدلے) کا لفظ شاذ ہے، کیونکہ سونے چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینے کی بات صحیح اور ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة بشيء
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3947
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَنَافِعٍ أخبراه، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ. وَاخْتُلِفَ عَلَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور (اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت کرنے والے) عمرو بن دینار سے روایت میں ان کے شاگردوں نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3947]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ اس حدیث کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں) تو عمرو بن دینار پر اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3579) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3948
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا، حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ مخابرہ کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3948]
حضرت عمرو بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ ہم زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، حتیٰ کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17 (1547)، سنن ابی داود/ البیوع 31 (3389)، سنن ابن ماجہ/الرہون 8 (2450)، (تحفة الأشراف: 3566)، مسند احمد (1/234، 2/11، 3/463، 465، 4/142) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں مخابرہ سے مراد: بٹائی کا وہی معاملہ ہے جس کی تشریح حدیث نمبر ۳۸۹۳ کے حاشیہ میں گزری، یعنی: زمین کے بعض خاص حصوں میں پیدا ہونے والی پیداوار پر بٹائی کرنا، نہ کہ مطلق پیدا وار کے آدھا پر، جو جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3949
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، يَقُولُ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , وَهُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْخِبْرِ، فَيَقُولُ: مَا كُنَّا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا , حَتَّى أَخْبَرَنَا عَامَ الْأَوَّلِ، ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ سَمِعَ" النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخِبْرِ". وَافَقَهُمَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار کو کہتے سنا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا اور وہ مخابرہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے (خلافت یزید کے) پہلے سال ۱؎ میں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخابرہ سے منع فرماتے سنا ہے۔ ان دونوں (سفیان و ابن جریج) کی موافقت حماد نے کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3949]
عمرو بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا، جبکہ ان سے بٹائی کے بارے میں پوچھا گیا تھا: ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتیٰ کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ہمیں پہلے سال بتلایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹائی سے منع فرماتے سنا ہے۔ حماد بن زید رحمہ اللہ نے ان دونوں (سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور ابن جریج رحمہ اللہ) کی موافقت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ واقعہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری دور خلافت کا ہے، اس لیے پہلے سال سے مراد یزید کی خلافت کا پہلا سال ہے۔ (واللہ اعلم)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3950
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامَ الْأَوَّلِ فَزَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ" نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ". خَالَفَهُ عَارِمٌ، فَقَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ،
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب پہلا سال ہوا تو رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔ «عارم» محمد بن فضل نے یحییٰ بن عربی کی مخالفت کی ہے۔ اور اسے بسند «عن حماد عن عمرو عن جابر» روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3950]
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ ہم بٹائی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتیٰ کہ (یزید یا حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا) پہلا سال ہوا تو رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ عارم رحمہ اللہ نے اس (یحییٰ بن حبیب) کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے: «عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ» حماد سے، عمرو سے، جابر سے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3948 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3951
قَالَ: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ محمد بن مسلم طائفی نے حماد کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3951]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ محمد بن مسلم طائفی نے اس (حماد بن زید) کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2518)، مسند احمد (3/338، 389) (صحیح) (اس کے راوی ’’عارم محمد بن الفضل‘‘ آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے، اور امام نسائی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی تھی، لیکن سابقہ متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہاں بھی کرایہ پر دینے سے مراد زمین کے بعض حصوں کی پیداوار کے بدلے کرایہ پر دینا ہے، نہ کہ روپیہ پیسے، یا سونا چاندی کے بدلے، جو کہ اجماعی طور پر جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3952
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ". جَمَعَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ الْحَدِيثَيْنِ، فَقَالَ: عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَجَابِرٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ سفیان بن عیینہ نے دونوں حدیثوں کو جمع کر کے ہے اور «عن ابن عمر و جابر» کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3952]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے (دونوں صحابہ کی) دو حدیثوں کو جمع کر دیا ہے اور کہا ہے: «عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ» ابن عمر رضی اللہ عنہما اور جابر رضی اللہ عنہ سے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2565) (صحیح) (اس کے راوی ”محمد بن مسلم“ حافظہ کے قدرے کمزور تھے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں