سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَحِلُّ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ
باب: جن گناہوں اور جرائم کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 4021
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ , لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: التَّارِكُ لِلْإِسْلَامِ مُفَارِقُ الْجَمَاعَةِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ". قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! کسی مسلمان کا خون جو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں حلال نہیں، سوائے تین افراد کے: ایک وہ جو (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو کر اسلام کو ترک کر دے، دوسرا شادی شدہ زانی، اور تیسرا جان کے بدلے جان ۱؎۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابراہیم نخعی سے بیان کی تو انہوں نے اس جیسی حدیث مجھ سے اسود کے واسطے سے عائشہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4021]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کسی مسلمان آدمی کا، جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، خون بہانا جائز نہیں، سوائے تین آدمیوں کے: (ایک) وہ جو اسلام چھوڑ کر کافر بن جائے اور مسلمانوں کی جماعت چھوڑ جائے، اور (دوسرا) وہ جو شادی شدہ ہو کر زنا کرے، اور (تیسرا) وہ جو کسی جان کو ناحق قتل کرے۔“ اعمش رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ روایت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے مجھے اسود رحمہ اللہ عن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (کی سند) سے اس جیسی روایت بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4021]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 6 (6878)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود) 6 (1676)، سنن ابی داود/الحدود 1 (4352)، سنن الترمذی/الدیات10 (1402)، سنن ابن ماجہ/الحدود 1 (2534)، (تحفة الأشراف: 9567)، مسند احمد (1/382، 428، 444، 465)، سنن الدارمی/السیر 11 (2491)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4725 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر کوئی دین اسلام سے مرتد ہو گیا، یا شادی شدہ ہو کر بھی زنا کر لیا، یا کسی کو ناحق قتل کیا ہے، تو اسے ان جرائم کی بنا پر اس کا خون حلال ہو گیا لیکن اس کے خون لینے کا کام اسلامی حکومت کا ہے نہ کہ سماج کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4022
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوِ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ". وَقَّفَهُ زُهَيْرٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے اس شخص کے جس نے شادی کے بعد زنا کیا یا اسلام لانے کے بعد کفر کیا یا جان کے بدلے جان لینا ہو“۔ اسے زہیر نے موقوفاً روایت کیا ہے (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4022]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون بہانا جائز نہیں مگر (تین آدمیوں کا:) وہ آدمی جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا، اور وہ شخص جس نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا، یا قاتل کو قصاصاً مارا جائے گا۔“ اس روایت کو زہیر نے موقوف بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17422)، مسند احمد (6/58، 181، 205، 214)، ویأتي عند المؤلف برقم 4023 (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4023
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" يَا عَمَّارُ , أَمَا إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ , لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ مَا أُحْصِنَ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عمار! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے تین صورت کے: جان کے بدلے جان، یا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو، اور پھر انہوں نے آگے (یہی) حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4023]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اے عمار! کیا تو نہیں جانتا کہ ”تین اشخاص کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں: جان کے بدلے جان، یا (اس آدمی کو رجم کیا جائے گا) جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا۔“ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق عنعن. وحديث أبى داود (الأصل: 4353) و سنده صحيح والنسائي الآتي (الأصل: 4053) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
حدیث نمبر: 4024
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , قَالَا: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَكُنَّا إِذَا دَخَلْنَا مَدْخَلًا نَسْمَعُ كَلَامَ مَنْ بِالْبَلَاطِ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ , فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِّي بِالْقَتْلِ. قُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ. قَالَ: فَلِمَ يَقْتُلُونِّي؟ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ"، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَلَا تَمَنَّيْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِيَ اللَّهُ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَلِمَ يَقْتُلُونَنِي.
ابوامامہ بن سہل اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور وہ (اپنے گھر میں) قید تھے۔ ہم جب کسی جگہ سے اندر گھستے تو بلاط ۱؎ والوں کی گفتگو سنتے۔ ایک دن عثمان رضی اللہ عنہ اندر گئے پھر باہر آئے اور بولے: یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا: آپ کے لیے تو اللہ کافی ہے۔ وہ بولے: آخر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنے کے درپہ ہیں؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں مگر تین میں سے کسی ایک سبب سے: کسی نے اسلام لانے کے بعد کافر و مرتد ہو گیا ہو، یا شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا ہو، یا ناحق کسی کو قتل کیا ہو“، اللہ کی قسم! نہ تو میں نے جاہلیت میں زنا کیا، اور نہ اسلام لانے کے بعد، اور جب سے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نصیب ہوئی میں نے یہ آرزو بھی نہیں کی کہ میرے لیے اس دین کے بجائے کوئی اور دین ہو، اور نہ میں نے ناحق کسی کو قتل کیا، تو آخر یہ مجھے کیوں کر قتل کریں گے؟۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4024]
حضرت ابو امامہ بن سہل اور حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے تو ہم ان کے پاس بیٹھے تھے۔ جب ہم (کسی جگہ سے) وہاں جاتے تو بلاط والوں کی باتیں سنتے تھے۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس جگہ گئے، پھر ہماری طرف نکلے اور فرمایا: یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے کفایت فرمائے گا۔ آپ نے فرمایا: آخر یہ مجھے کیوں قتل کرتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کسی مسلمان آدمی کا خون تین (جرائم) میں سے کسی ایک کے بغیر جائز نہیں: (ایک) وہ شخص جس نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا۔ (دوسرا) وہ جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا۔ (تیسرا) وہ شخص جس نے کسی کو ناحق قتل کیا۔“ اللہ کی قسم! میں نے نہ کفر کی حالت میں زنا کیا ہے نہ اسلام کی حالت میں۔ اور جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے، میں نے کبھی سوچا تک نہیں کہ مجھے میرے دین کے علاوہ کوئی اور دین ملے۔ اور میں نے کبھی کسی (مسلمان) کو قتل نہیں کیا۔ تو پھر وہ مجھے کیوں قتل کرتے ہیں؟ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4502)، سنن الترمذی/الفتن 1 (2158)، سنن ابن ماجہ/الحدود 1 (2533)، (تحفة الأشراف: 9782)، مسند احمد (1/61-62، 65، 70)، سنن الدارمی/الحدود 2 (2343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بلاط: مسجد نبوی اور بازار کے درمیان مدینہ میں ایک جگہ کا نام تھا۔ بلاط: دراصل ایسی خالی جگہ کو کہتے ہیں جس میں اینٹ بچھائی گئی ہو۔ اس جگہ اینٹ بچھائی گئی تھی، پھر اس مکان کا یہی نام پڑ گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح