🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ: سَحَرَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب کے جادوگروں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4085
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ابْنِ حَيَّانَ يَعْنِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ عَقَدَ لَكَ عُقَدًا فِي بِئْرِ كَذَا وَكَذَا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَخْرَجُوهَا فَجِيءَ بِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَكَرَ ذَلِكَ لِذَلِكَ الْيَهُودِيِّ وَلَا رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو کیا۔ اس کی وجہ سے آپ کچھ دنوں تک بیمار رہے، آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: ایک یہودی نے آپ کو جادو کیا ہے، اس نے آپ کے لیے فلاں کنوئیں میں گرہ باندھ کر ڈال رکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے اسے نکالا، وہ گرہ آپ کے پاس لائی گئی تو آپ کھڑے ہو گئے، گویا آپ کسی رسی کے بندھن سے کھلے ہوں۔ پھر آپ نے اس کا ذکر اس یہودی سے نہیں کیا اور نہ ہی اس نے آپ کے چہرے پر کبھی اس کا اثر پایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4085]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے کچھ دن بیمار سے رہے، پھر جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا کہ ایک یہودی نے آپ پر جادو کر دیا ہے، اس نے کچھ گرہیں دے کر فلاں کنویں میں رکھ چھوڑی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھیجے، انہوں نے ان گرہوں کو نکالا اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اٹھ کھڑے ہوئے جیسے کسی اونٹ کا گھٹنا کھول دیا جائے، پھر نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے اس کا ذکر کیا اور نہ اس (یہودی) نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اس کا کچھ اثر پایا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «مسند احمد 4/367 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے اس کے اس عمل کے سبب تعرض اس لیے نہیں کیا کہ جادو کے سبب شرک و ارتداد کا حکم اس پر لاگو نہیں ہوا، کیونکہ اس کا دین دوسرا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کئے جانے کے بارے میں اس حدیث کے علاوہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیحین میں بھی حدیثیں مروی ہیں، اس لیے ان کا انکار حدیث کا انکار ہے، سلف صالحین انبیاء علیہم السلام پر جادو کے اثر کے قائل ہیں اور یہ کہ یہ چیز ان کے مرتبہ و مقام میں کسی نقص اور کمی کا باعث نہیں ہے، یہ ایک قسم کا مرض ہی ہے، اور مرض انبیاء پر طاری ہوا کرتا ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں