سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: جَزَاءِ مَنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَأَطَاعَ
باب: اس شخص کی سزا جسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے اور وہ اسے بجا لائے۔
حدیث نمبر: 4210
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا:" لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ:" خَيْرًا"، وَقَالَ أَبُو مُوسَى فِي حَدِيثِهِ:" قَوْلًا حَسَنًا"، وَقَالَ:" لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور ایک شخص ۱؎ کو اس کا امیر مقرر کیا، اس نے آگ جلائی اور کہا: تم لوگ اس میں داخل ہو جاؤ، تو کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا اور دوسروں نے کہا: ہم تو (ایمان لا کر) آگ ہی سے بھاگے ہیں، پھر لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ نے ان لوگوں سے جنہوں نے اس میں داخل ہونا چاہا تھا فرمایا: ”اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے، اور دوسروں سے اچھی بات کہی“۔ (ابوموسیٰ (محمد بن المثنیٰ) نے اپنی حدیث میں ( «خیراً» کے بجائے) «قولاً حسناً» (بہتر بات) کہا ہے)۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں اطاعت نہیں ہوتی، اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4210]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک آدمی کو امیر مقرر فرمایا۔ اس نے آگ جلائی اور کہنے لگا: اس میں چھلانگیں لگا دو۔ کچھ لوگوں نے چھلانگیں لگانے کا ارادہ کر لیا۔ دوسرے کہنے لگے: ہم آگ سے بچنے کے لیے تو مسلمان ہوئے ہیں (لہٰذا ہم آگ میں چھلانگ نہیں لگائیں گے)۔ پھر (واپسی پر) انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے ان لوگوں کو، جنہوں نے چھلانگ لگانے کا ارادہ کیا تھا، (مخاطب کر کے) فرمایا: ”اگر تم آگ میں چھلانگیں لگا دیتے تو قیامت تک آگ ہی میں رہتے۔“ اور دوسروں کے لیے خیر کا کلمہ کہا۔ (استاد) ابو موسیٰ (محمد بن مثنیٰ) نے اپنی حدیث میں کہا: اور آپ نے دوسرے لوگوں کے بارے میں اچھی بات فرمائی۔ اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو تو کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ صرف اطاعت اچھے کاموں میں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 59 (4340)، الأحکام 4 (7145)، أخبارالأحاد 1 (7257)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1840)، سنن ابی داود/الجہاد 96 (2625)، سنن الترمذی/السیر 8 (1556)، (تحفة الأشراف: 10168)، مسند احمد (1/82، 94، 124، 129) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد وہی عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کا تذکرہ حدیث نمبر ۴۱۹۹ میں گزرا۔ ۲؎: ”صرف نیک کاموں میں اطاعت، اور نافرمانی کے کاموں میں اطاعت نہ کرنے“ کی بات ہر ایک اختیار والے کے ساتھ ہو گی: خواہ حکمران اعلی ہو یا ادنیٰ، یا والدین، یا اساتذہ، شوہر یا کسی تنظیم کا سربراہ۔ اگر کسی سربراہ کا اکثر حکم اللہ کی نافرمانی والا ہی ہو تو ایسے آدمی کو سارے ماتحت لوگ مشورہ کر کے اختیار سے بے دخل کر دیں۔ لیکن ہتھیار سے نہیں، یا فتنہ و فساد برپا کر کے نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4211
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان شخص پر (امام و حکمراں کی) ہر چیز میں سمع و طاعت (حکم سننا اور اس پر عمل کرنا) واجب ہے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے۔ لہٰذا جب اسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے تو کوئی سمع و طاعت نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4211]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان شخص پر ضروری ہے کہ وہ امیر کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، خواہ پسند کرتا ہو یا نہ، الا یہ کہ اسے (اللہ اور اس کے رسول کی) نافرمانی اور گناہ والا حکم دیا جائے۔ ایسی صورت میں نہ وہ امیر کی بات سنے، نہ اس کی اطاعت کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7792) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح