🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. بَابُ: إِبَاحَةِ أَكْلِ لُحُومِ حُمُرِ الْوَحْشِ
باب: نیل گائے کا گوشت کھانے کی اباحت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4348
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ هُوَ ابْنُ فَضَالَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" أَكَلْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَالْوَحْشِ، وَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن ہم نے گھوڑوں اور نیل گائے کا گوشت کھایا، اور ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھریلو) گدھے (کے گوشت کھانے) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4348]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے خیبر کے دن گھوڑوں اور جنگلی گدھوں کا گوشت کھایا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 6 (1941)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 12 (3192)، (تحفة الأشراف: 2810)، مسند احمد (3/322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4349
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ هُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَثَايَا الرَّوْحَاءِ وَهُمْ حُرُمٌ، إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ مَعْقُورٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ فَيُوشِكُ صَاحِبُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ"، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ هُوَ الَّذِي عَقَرَ الْحِمَارَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ هَذَا الْحِمَارُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ يُقَسِّمُهُ بَيْنَ النَّاسِ.
عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران جب کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روحاء کے پتھروں میں چل رہے تھے اور لوگ احرام باندھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک زخمی نیل گائے ملی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو ممکن ہے اسے زخمی کرنے والا آئے، اتنے میں قبیلہ بہز کا ایک شخص آیا، اسی نے اس کو زخمی کیا تھا، وہ بولا: اللہ کے رسول! آپ اس نیل گائے کو لے لیجئے تو آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4349]
حضرت عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روحاء کے کسی مقام پر تھے، سب لوگ محرم تھے، انہوں نے ایک زخمی جنگلی گدھا دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کچھ نہ کہو حتیٰ کہ اس کو شکار کرنے والا آ جائے۔ تھوڑی دیر بعد بہز قبیلے کا وہ آدمی بھی آ گیا جس نے اسے زخمی کیا تھا، وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ اس گدھے کو جو چاہیں کیجیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اسے لوگوں میں تقسیم کر دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10894)، مسند احمد (3/318) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4350
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: أَصَابَ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَأَتَى بِهِ أَصْحَابَهُ , وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ حَلالٌ فَأَكَلْنَا مِنْهُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَوْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَسَأَلْنَاهُ؟، فَقَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتُمْ"، فَقَالَ لَنَا:" هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ"؟، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" فَاهْدُوا لَنَا"، فَأَتَيْنَاهُ مِنْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک نیل گائے شکار کیا اور اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لے کر آئے، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے اور میں حلال (یعنی احرام سے باہر) تھا تو ہم نے اس میں سے کھایا، پھر ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کہا: ہم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا، چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا، پھر فرمایا: کیا تم لوگوں کے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ہمیں بھی دو، تو ہم اس میں سے کچھ گوشت آپ کے پاس لے آئے، آپ نے اس میں سے کھایا حالانکہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4350]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا، میں اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، وہ سب محرم تھے، صرف میں محرم نہیں تھا، ہم سب نے اس میں سے کچھ گوشت کھا لیا، پھر ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: اگر ہم اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں (تو بہتر ہے)۔ ہم نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ پھر فرمایا: کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت باقی ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کچھ ہمیں بھی بھیجو! ہم نے آپ کو بھیجا تو آپ نے اسے کھایا، حالانکہ آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 3 (2570)، الجہاد 46 (2854)، الأطعمة 19 (5406، 5407)، صحیح مسلم/الصید 8 (1196)، (تحفة الأشراف: 12099)، مسند احمد (5/307) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں