سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: الشَّرْقَاءِ وَهِيَ مَشْقُوقَةُ الأُذُنِ
باب: پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔
حدیث نمبر: 4380
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ، وَلَا عَوْرَاءَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سامنے سے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے، اور کان چرے ہوئے اور کان پھٹے ہوئے اور کانے جانوروں کی قربانی نہ کی جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4380]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا جانور قربانی میں ذبح نہ کیا جائے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو یا چرا ہوا ہو، یا اس میں سوراخ ہو یا وہ آنکھ سے کانا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4377 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
حدیث نمبر: 4381
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَنَّ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ، وَالْأُذُنَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آنکھ اور کان دیکھ لینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4381]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ غور سے دیکھیں (کہ ان میں کسی قسم کی کوئی خرابی نہ ہو)۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الضحایا 9 (1503)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 8 (3143)، (تحفة الأشراف: 1064)، مسند احمد (1/104) سنن الدارمی/الأضاحی 3 (1994) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن