سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: الأَمْرِ بِإِحْدَادِ الشَّفْرَةِ
باب: چھری تیز کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 4410
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: اثْنَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں یاد کی ہیں، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4410]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو باتیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب یاد رکھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے کہ ہر چیز پر احسان کیا جائے، لہٰذا جب تم (کسی انسان کو قصاص میں یا کسی موذی جانور اور درندے وغیرہ کو) قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو۔ اور جب تم ذبح کرنے لگو (کسی پرندے یا حلال جانور کو) تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ اور ذبح کرتے وقت چھری تیز کر لیا کرو اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 11 (1955)، سنن ابی داود/الأضاحی 12 (2815)، سنن الترمذی/الدیات 14(1409)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 3 (3170)، (تحفة الأشراف: 4817)، مسند احمد (4/123، 124، 125)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4416- 4419 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اسلام میں کسی بھی جاندار کے ساتھ احسان (اچھا برتاؤ کرنے) کا ثبوت ملتا ہے، پس جو مذہب جانوروں کے ساتھ ذبح کی حالت میں بھی احسان کا داعی ہے وہ انسانی جانوں کے ساتھ کیسے سلوک کا حکم دے گا واضح ہے۔ سبق لیں اسلام پر تشدد کا الزام لگانے والے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم