سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ
باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
حدیث نمبر: 4495
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , وَوَكِيعٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ «خراج» (نفع) مال کی ضمانت سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4495]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ”کسی چیز کا نفع اس کو ملے گا جو اس چیز کا ضامن ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 73 (3509)، سنن الترمذی/البیوع 53 (1285)، سنن ابن ماجہ/التجارات 43 (2242)، (تحفة الأشراف: 16755)، مسند احمد (6/49، 208، 237) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی پھر غلام میں کچھ نقص اور عیب نکل آیا تو خریدار نے اسے بیچنے والے کو لوٹا دیا اس کے کمائی کا حقدار خریدار ہو گا بیچنے والا نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں خریدار ہی اس کا ضامن ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن