سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ: بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ بِالصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ
باب: اناج کے ڈھیر کو اناج کے ڈھیر کے بدلے بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4552
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَاعُ الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ , وَلَا الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ الطَّعَامِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اناج کا ڈھیر اناج کے ڈھیر سے نہیں بیچا جائے گا ۱؎، اور نہ ہی اناج کا ڈھیر ناپے اناج سے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4552]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلے کا ایک ڈھیر دوسرے ڈھیر کے عوض یا معین وزن کے غلے کے عوض خریدا بیچا نہ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ دونوں کی مقدار معلوم نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ ایک زیادہ ہو اور ایک کم، جب کہ تفاضل (کمی زیادتی) جائز نہیں۔ ۲؎: کیونکہ گرچہ ایک ڈھیر کی مقدار معلوم ہے مگر دوسرے کی معلوم نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ کمی زیادتی ہو جائے، جو جائز نہیں، یہ اس صورت میں ہے جب دونوں ڈھیروں کی جنس ایک ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن