سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: بَيْعِ الزَّرْعِ بِالطَّعَامِ
باب: اناج کے بدلے کھڑی کھیتی (فصل) بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4553
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ , أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَإِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا , وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا , وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ , نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے ”مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ میں لگے پھل کو بیچے، اگر وہ کھجور ہو تو نپی ہوئی کھجور سے بیچے، اور اگر انگور ہو تو اسے نپے ہوئے خشک انگور (منقیٰ یا کشمش) سے بیچے، اور اگر کھڑی کھیتی (فصل) ہو تو اسے نپے ہوئے اناج سے بیچے“۔ آپ نے ان تمام اقسام کی بیع سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4553]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ سے منع فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ (کوئی شخص) اپنے باغ کا پھل (مثلاً) تازہ کھجوریں خشک تولی ہوئی کھجوروں کے عوض بیچے، اسی طرح انگوروں کو تولے ہوئے منقیٰ کے عوض بیچے اور اگر کھیتی ہو تو اسے معین غلے کے عوض بیچے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام صورتوں سے منع فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 91 (2205)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1542)، سنن ابن ماجہ/التجارات 54 (2265)، (تحفة الأشراف: 8273)، مسند احمد (2/123) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4554
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُحَاقَلَةِ , وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يُطْعَمَ , وَعَنْ بَيْعِ ذَلِكَ إِلَّا بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مخابرہ، مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا، اور کھانے کے لائق ہونے سے پہلے کھجور کو بیچنے سے، اور اسے سوائے دینار اور درہم کے کسی اور چیز سے بیچنے سے (منع فرمایا)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4554]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُخَابَرَةِ» ”مخابرہ“، «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ اور «الْمُحَاقَلَةِ» ”محاقلہ“ سے منع فرمایا اور پھل کھانے کے قابل ہونے سے پہلے اس کی بیع سے بھی روکا۔ ”مزابنہ اور محاقلہ کی بجائے ان کو الگ الگ دینار اور درہم (روپے پیسے) سے خریدا بیچا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3910 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن