🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

78. بَابُ: الْبَيْعِ يَكُونُ فِيهِ الشَّرْطُ الْفَاسِدُ فَيَصِحُّ الْبَيْعُ وَيَبْطُلُ الشَّرْطُ
باب: بیع میں اگر شرط فاسد ہو تو بیع صحیح ہو جائے گی اور شرط باطل ہو گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4646
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَعْتِقِيهَا , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ" , قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا , قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا , فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا , وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا تو ان کے گھر والوں نے ولاء (وراثت) کی شرط لگائی، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء (وراثت) اس کا حق ہے جس نے درہم (روپیہ) دیا ہے، چنانچہ میں نے انہیں آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور انہیں ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا ۱؎ تو بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی زوجیت میں نہ رہنے کو ترجیح دی، حالانکہ ان کے شوہر آزاد تھے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4646]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو (اس کے مالکان سے) خریدا تو اس کے مالکان نے اس کی ولا کی اپنے لیے شرط لگا لی۔ میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دے، ولا اسی کی ہوتی ہے جو پیسے دیتا (غلام کو خریدتا) ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اسے آزاد کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے اپنے خاوند کے (پاس رہنے یا نہ رہنے کے) بارے میں اختیار دیا، اس نے خاوند سے اپنی جدائی کو پسند کیا، اور اس کا خاوند آزاد تھا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3479 (صحیح) (لیکن ”وکان زوجھا حراً“ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ روایت یہی ہے کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی چاہیں تو اس شوہر کی زوجیت میں رہیں جن سے غلامی میں نکاح ہوا تھا، اور چاہیں تو ان کی زوجیت میں نہ رہیں۔ ۲؎: صحیح واقعہ یہ ہے کہ وہ اس وقت غلام تھے، اسی لیے تو بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا گیا، اگر وہ آزاد ہوتے تو بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا ہی نہیں جاتا، (دیکھئیے حدیث رقم ۲۶۱۵ و ۳۴۷۹) اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء والی شرط کو باطل قرار دے کر باقی معاملہ (بریرہ کی بیع کو) صحیح قرار دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله وكان زوجها حرا فإنه شاذ والمحفوظ أنه كان عبدا
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4647
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" , وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ , فَقِيلَ: هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ , فَقَالَ:" هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ , وَلَنَا هَدِيَّةٌ" , وَخُيِّرَتْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے غلامی سے آزاد کرنے کے لیے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا، لوگوں نے ان کے ولاء (وراثت) کی شرط لگائی، انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء (وراثت) کا حق اسی کا ہے جو آزاد کرے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو کہا گیا: یہ تو بریرہ پر کیا گیا صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے تحفہ (ہدیہ) ہے، اور انہیں (بریرہ کو) اختیار دیا گیا (شوہر کے ساتھ رہنے اور نہ رہنے کا)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4647]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے اسے خریدنے کا ارادہ کیا لیکن اس کے مالکوں نے اپنے لیے ولا کی شرط لگا لی۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ بلاشبہ ولا اسی کی ہوتی ہے جو (غلام کو) آزاد کرتا ہے۔ (یہ واقعہ بھی ہوا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور بتلایا گیا کہ یہ گوشت بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے (اور اس نے ہمیں بھیجا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ اس کے لیے ہے۔ ہمارے لیے تحفہ ہی ہے۔ اور اسے (خاوند کے بارے میں) اختیار دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3484 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4648
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُهَا , فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ الْوَلَاءَ لَنَا , فَذَكَرَتْ ذَلِكِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی خریدنا چاہی تاکہ اسے آزاد کریں، تو اس کے گھر والوں (مالکان) نے کہا: ہم اسے آپ سے اس شرط پر بیچیں گے کہ ولاء (حق وراثت) ہمارا ہو گا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: تم اس وجہ سے مت رک جانا، کیونکہ ولاء (وراثت) تو اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4648]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو خریدنے کا ارادہ کیا۔ ان کا ارادہ اسے آزاد کرنے کا تھا۔ اس لونڈی کے مالکان نے کہا: ہم لونڈی بیچ دیتے ہیں مگر ولا کا حق ہمیں حاصل ہوگا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: یہ شرط بیع میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ولا اسی کو ملتی ہے جو (غلام کو) آزاد کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 73 (2169)، المکاتب2(2562)، الفرائض 19 (6751)، 22(6757)، صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن ابی داود/الفرائض 12 (2915)، (تحفة الأشراف: 8334)، موطا امام مالک/العتق 10 (18)، مسند احمد (2/28، 113، 153، 156)، وانظر أیضا حدیث رقم: 2615 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں