🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ: الْقَوَدِ
باب: قصاص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4725
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالتَّارِكُ دِينَهُ الْمُفَارِقُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا خون بہانا جائز تین صورتوں کے علاوہ جائز نہیں ہے: جان کے بدلے جان ۱؎، جس کا نکاح ہو چکا ہو وہ زنا کرے، جو دین چھوڑ دے اور اس سے پھر جائے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4725]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا خون بہانا جائز نہیں، البتہ تین جرموں میں اسے قتل کیا جا سکتا ہے: اس نے کسی کو مار دیا ہو تو اسے اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا، یا شادی شدہ شخص زنا کرے، یا جو شخص دین اسلام چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4021 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی لفظ سے قصاص کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ جان ناحق لی گئی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرُفِعَ الْقَاتِلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ"، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ: وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ , فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا گیا، قاتل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اسے مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا ۱؎، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! میرا ارادہ قتل کا نہ تھا، آپ نے مقتول کے ولی سے فرمایا: سنو! اگر وہ سچ کہہ رہا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا تو تم بھی جہنم میں جاؤ گے، تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ شخص رسی سے بندھا ہوا تھا، وہ اپنی رسی گھسیٹتا ہوا نکلا تو اس کا نام ذوالنسعۃ (رسی والا) پڑ گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4726]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی قتل ہو گیا۔ قاتل کو پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے اسے مقتول کے وارث کے سپرد کر دیا۔ قاتل کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے وارث سے فرمایا: اگر یہ سچا ہوا اور تو نے اسے قتل کر دیا تو تو آگ میں جائے گا۔ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ قاتل چمڑے کی رسی سے بندھا ہوا تھا۔ وہ اسی طرح اپنی رسی کو گھسیٹتا ہوا نکلا تو اس کا نام ہی «ذُو النِّسْعَةِ» تندی یا رسی والا پڑ گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4498)، سنن الترمذی/الدیات 13 (1407)، سنن ابن ماجہ/الدیات 34 (2690)، (تحفة الأشراف: 12507) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے حوالہ کر دیا کہ وہ اس کو قصاص میں قتل کر دیں، اسی سے قصاص کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4727
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِيءَ بِالْقَاتِلِ الَّذِي قَتَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِهِ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَقْتُلُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ"، فَلَمَّا ذَهَبَ دَعَاهُ، قَالَ:" أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَقْتُلُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ" , فَلَمَّا ذَهَبَ، قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، فَعَفَا عَنْهُ فَأَرْسَلَهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس قاتل کو جس نے قتل کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اسے مقتول کا ولی پکڑ کر لایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: جاؤ (قتل کرو)، جب وہ (قتل کرنے) چلا تو آپ نے اسے بلا کر کہا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو کیا قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: جاؤ (قتل کرو)، جب وہ (قتل کرنے) چلا، تو آپ نے فرمایا: اگر تم اسے معاف کر دو تو تمہارا گناہ اور تمہارے (مقتول) آدمی کا گناہ اسی پر ہو گا ۱؎، چنانچہ اس نے اسے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹتا جا رہا تھا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4727]
حضرت وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا گیا، اسے مقتول کا وارث لے کر آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اسے معاف کرتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اسے قتل کرے گا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ جب وہ چل پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تو معاف کرتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو دیت لے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا تو اسے قتل کرے گا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ جب وہ چل پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اسے معاف کر دے تو وہ تیرے اور تیرے مقتول کے گناہ کا ذمہ دار ہوگا۔ اس نے اسے معاف کر دیا اور چھوڑ دیا۔ میں نے قاتل کو دیکھا، وہ اپنی تندی (یا رسی) کو گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 10 (الحدود10) (1680)، سنن ابی داود/الدیات 3 (4499، 4500، 4501)، (تحفة الأشراف: 11769)، سنن الدارمی/الدیات 8 (2404) وأعادہ المؤلف في القضاء 26 (برقم5417)، وانظرالأرقام التالیة: 4728-4733 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ بلا کچھ لیے دئیے ولی کے معاف کر دینے کی صورت میں ولی اور مقتول دونوں کے گناہ کا حامل قاتل ہو گا، لیکن اس میں اشکال ہے کہ ولی کے گناہ کا حامل کیونکر ہو گا، اس لیے حدیث کے اس ظاہری مفہوم کی توجیہ کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ ولی کے معاف کر دینے کے سبب رب العالمین ولی اور مقتول دونوں کو مغفرت سے نوازے گا اور قاتل اس حال میں لوٹے گا کہ مغفرت کے سبب ان دونوں کے گناہ زائل ہو چکے ہوں گے۔ ۲؎: یہ وہی آدمی ہے جس کا تذکرہ پچھلی حدیث میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں