🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ}
باب: اور (اس حدیث کے راوی) عکرمہ کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4736
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ قُرَيْظَةُ , وَالنَّضِيرُ وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ، وَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلًا مِنْ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ أَدَّى مِائَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ، فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ، فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْهُ , فَنَزَلَتْ: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 , وَالْقِسْطُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نَزَلَتْ: أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر یہودیوں کے دو قبیلے تھے، بنو نضیر بنو قریظہ سے بڑھ کر تھے، جب بنو قریظہ کا کوئی شخص بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتا تو وہ اس کے بدلے قتل کر دیا جاتا، اور جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور ادا کر دیتا، لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بنا کر بھیجے گئے تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا تو ان لوگوں نے کہا: اسے (قاتل کو) ہمارے حوالے کرو ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان ثالث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو یہ آیت: «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط‏» اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (المائدہ: ۴۰) نازل ہوئی، «قسط» یعنی انصاف کا مطلب ہے جان کے بدلے جان لی جائے، پھر یہ آیت «‏أفحكم الجاهلية يبغون» کیا یہ لوگ جاہلیت کا انصاف پسند کرتے ہیں (المائدہ: ۵۰) نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4736]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنو قریظہ اور بنو نضیر (دو یہودی قبیلے تھے)۔ بنو نضیر، بنو قریظہ سے افضل شمار ہوتے تھے۔ اگر بنو قریظہ میں سے کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے قصاصاً قتل کر دیا جاتا تھا لیکن جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور دے دیتا تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے (مدینہ منورہ تشریف لائے) تو بنو نضیر کے ایک آدمی نے بنو قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ بنو قریظہ نے مطالبہ کیا کہ قاتل ہمارے سپرد کرو تاکہ ہم اسے قتل کر دیں۔ (ان کے انکار پر) بنو قریظہ نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ فرمائیں گے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ آیت اتری: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ [سورة المائدة: 42] اگر آپ فیصلہ فرمائیں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔ اور انصاف یہی ہے کہ جان کے بدلے جان (مقتول کے بدلے قتل کیا جائے)۔ پھر یہ آیت اتری: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ [سورة المائدة: 50] کیا یہ اب بھی جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 1 (4494)، (تحفة الأشراف: 6109) (صحیح) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، مگر اگلی سند میں سماک کے متابع ”داود بن حسین“ ہیں، اس کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4494) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4737
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ الْآيَاتِ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ الَّتِي قَالَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ إِلَى الْمُقْسِطِينَ سورة المائدة آية 42 إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي الدِّيَةِ بَيْنَ النَّضِيرِ , وَبَيْنَ قُرَيْظَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ قَتْلَى النَّضِيرِ كَانَ لَهُمْ شَرَفٌ يُودَوْنَ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَأَنَّ بَنِي قُرَيْظَةَ كَانُوا يُودَوْنَ نِصْفَ الدِّيَةِ، فَتَحَاكَمُوا فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ فِيهِمْ، فَحَمَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَقِّ فِي ذَلِكَ , فَجَعَلَ الدِّيَةَ سَوَاءً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مائدہ کی وہ آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» سے «المقسطين»، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے درمیان ایک دیت کے سلسلے میں نازل ہوئی تھیں، وجہ یہ تھی کہ بنو نضیر کے مقتولین کو برتری حاصل ہونے کی وجہ سے ان کی پوری دیت دے دی جاتی تھی اور بنو قریظہ کو آدھی دیت دی جاتی تھی، اس سلسلے میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ان کے سلسلے میں نازل فرمایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سلسلہ میں حق کی ترغیب دلائی اور دیت برابر کر دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4737]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سورہ مائدہ کی وہ آیات جن میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 42] آپ ان میں فیصلہ کریں یا نہ، (آپ کی مرضی ہے)۔۔۔ انصاف کرنے والوں کو (ہی پسند کرتا ہے)۔ یہ آیات بنو نضیر اور بنو قریظہ کے درمیان دیت کے جھگڑے کے بارے میں نازل ہوئیں اور وہ اس طرح کہ بنو نضیر کے مقتولین کو افضل خیال کیا جاتا تھا، اس لیے ان کی مکمل دیت (سو اونٹ) ادا کی جاتی تھی جب کہ بنو قریظہ کے مقتولین کی نصف دیت ادا کی جاتی تھی۔ وہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فیصلہ لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس بارے میں حق اختیار کرنے پر مجبور کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی دیت برابر قرار دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأقضیة 10 (3591)، (تحفة الأشراف: 6074)، مسند احمد (1/363) (حسن، صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3591) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں