یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : تأويل قول الله تعالى { وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط }
باب: اور (اس حدیث کے راوی) عکرمہ کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4736
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ قُرَيْظَةُ , وَالنَّضِيرُ وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ، وَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلًا مِنْ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ أَدَّى مِائَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ، فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ، فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْهُ , فَنَزَلَتْ: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 , وَالْقِسْطُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نَزَلَتْ: أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر یہودیوں کے دو قبیلے تھے، بنو نضیر بنو قریظہ سے بڑھ کر تھے، جب بنو قریظہ کا کوئی شخص بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتا تو وہ اس کے بدلے قتل کر دیا جاتا، اور جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور ادا کر دیتا، لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بنا کر بھیجے گئے تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا تو ان لوگوں نے کہا: اسے (قاتل کو) ہمارے حوالے کرو ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان ثالث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو یہ آیت: «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ”اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو“ (المائدہ: ۴۰) نازل ہوئی، «قسط» یعنی انصاف کا مطلب ہے جان کے بدلے جان لی جائے، پھر یہ آیت «أفحكم الجاهلية يبغون» ”کیا یہ لوگ جاہلیت کا انصاف پسند کرتے ہیں“ (المائدہ: ۵۰) نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4736]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنو قریظہ اور بنو نضیر (دو یہودی قبیلے تھے)۔ بنو نضیر، بنو قریظہ سے افضل شمار ہوتے تھے۔ اگر بنو قریظہ میں سے کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے قصاصاً قتل کر دیا جاتا تھا لیکن جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور دے دیتا تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے (مدینہ منورہ تشریف لائے) تو بنو نضیر کے ایک آدمی نے بنو قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ بنو قریظہ نے مطالبہ کیا کہ قاتل ہمارے سپرد کرو تاکہ ہم اسے قتل کر دیں۔ (ان کے انکار پر) بنو قریظہ نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ فرمائیں گے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ آیت اتری: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ [سورة المائدة: 42] ”اگر آپ فیصلہ فرمائیں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔“ اور انصاف یہی ہے کہ جان کے بدلے جان (مقتول کے بدلے قتل کیا جائے)۔ پھر یہ آیت اتری: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ [سورة المائدة: 50] ”کیا یہ اب بھی جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 1 (4494)، (تحفة الأشراف: 6109) (صحیح) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، مگر اگلی سند میں سماک کے متابع ”داود بن حسین“ ہیں، اس کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4494) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4736 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4736
اردو حاشہ:
”ہمارے اور تمھارے درمیان“ ترجمے میں اسے بنو قریظہ کا قول بتلایا گیا ہے مگر یہ بنو نضیر کا قول بھی بن سکتا ہے کہ وہ قاتل سپرد کرنے کے بجائے فیصلہ آپ کے پاس لے آئے۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہماری روایات کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے۔ یہ ترجمہ ما بعد الفاظ ”کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟“ سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ واللہ أعلم
”ہمارے اور تمھارے درمیان“ ترجمے میں اسے بنو قریظہ کا قول بتلایا گیا ہے مگر یہ بنو نضیر کا قول بھی بن سکتا ہے کہ وہ قاتل سپرد کرنے کے بجائے فیصلہ آپ کے پاس لے آئے۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہماری روایات کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے۔ یہ ترجمہ ما بعد الفاظ ”کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟“ سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4736]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4736 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي