سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: سُقُوطِ الْقَوَدِ بَيْنَ الْمَمَالِيكِ فِيمَا دُونَ النَّفْسِ
باب: قتل سے کم جرم میں غلاموں سے قصاص نہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4755
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ:" أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يَجْعَلْ لَهُمْ شَيْئًا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غریب لوگوں کے ایک غلام نے امیر لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے انہیں کچھ نہ دلایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4755]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فقیر لوگوں کے ایک غلام نے مالدار لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ دیا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کو کوئی معاوضہ نہ دلایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 27 (4590)، (تحفة الأشراف: 10863)، مسند احمد (4/438)، سنن الدارمی/الدیات 14 (2413) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے مؤلف کا یہ اپنا استدلال ہے، جب کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس پر جو باب باندھا ہے وہ اس حدیث کے مفہوم کی صحیح ترجمان ہے ان کے الفاظ ہیں ”فقراء کے غلام کی جنایت کا باب“ تب حدیث کا مطلب ہو گا ”مجرم غلام اگر غریب لوگوں کا ہو گا تو اس سے ساقط ہو جائے گا۔ لیکن مؤلف کا یہ استنباط بہرحال باقی ہے کہ جب یہ جنایت قتل سے کم تر ہو، ورنہ قتل کے بدلے اگر قصاص کا فیصلہ ہو تو بہرحال غلام سے بھی قصاص لیا جائے گا۔ اور دیت کے فیصلے کی صورت میں اگر مالک غریب ہے تو بیت المال سے دیت دی جائے گی اور امام خطابی کے بقول یہاں ”غلام“ بمعنی ”لڑکا ہے نہ کہ غلام بمعنی ”عبد“ یعنی اگر غریبوں کے کسی لڑکے نے قتل سے کم تر جنایت کا ارتکاب کیا تو اس کے غریب سرپرستوں سے دیت ساقط ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4590) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356