🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. بَابُ: الْقَوَدِ مِنَ الْجَبْذَةِ
باب: پکڑ کر کھینچنے کے قصاص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4780
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَقْعُدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا قَامَ قُمْنَا، فَقَامَ يَوْمًا وَقُمْنَا مَعَهُ حَتَّى لَمَّا بَلَغَ وَسَطَ الْمَسْجِدِ، أَدْرَكَهُ رَجُلٌ , فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ مِنْ وَرَائِهِ وَكَانَ رِدَاؤُهُ خَشِنًا , فَحَمَّرَ رَقَبَتَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ احْمِلْ لِي عَلَى بَعِيرَيَّ هَذَيْنِ , فَإِنَّكَ لَا تَحْمِلُ مِنْ مَالِكَ , وَلَا مِنْ مَالِ أَبِيكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ , لَا أَحْمِلُ لَكَ حَتَّى تُقِيدَنِي مِمَّا جَبَذْتَ بِرَقَبَتِي"، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا , وَاللَّهِ لَا أُقِيدُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُقِيدُكَ، فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الْأَعْرَابِيِّ أَقْبَلْنَا إِلَيْهِ سِرَاعًا , فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" عَزَمْتُ عَلَى مَنْ سَمِعَ كَلَامِي أَنْ لَا يَبْرَحَ مَقَامَهُ حَتَّى آذَنَ لَهُ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ:" يَا فُلَانُ , احْمِلْ لَهُ عَلَى بَعِيرٍ شَعِيرًا , وَعَلَى بَعِيرٍ تَمْرًا"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْصَرِفُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے، جب آپ کھڑے ہوتے، ہم کھڑے ہو جاتے، ایک دن آپ کھڑے ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ جب آپ مسجد کے بیچوں بیچ پہنچے تو ایک شخص نے آپ کو پکڑا اور پیچھے سے آپ کی چادر پکڑ کر کھینچے لگا، وہ چادر بہت کھردری تھی، آپ کی گردن سرخ ہو گئی، وہ بولا: اے محمد! میرے لیے میرے ان دو اونٹوں کو لاد دیجئیے، آپ کوئی اپنے مال سے تو کسی کو دیتے نہیں اور نہ اپنے باپ کے مال سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، میں تجھے نہیں دوں گا جب تک تو میری اس گردن کھینچنے کا بدلہ نہیں دے گا، اعرابی نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، میں بدلہ نہیں دوں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا، ہر مرتبہ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں بدلہ نہیں دوں گا، جب ہم نے اعرابی کی بات سنی تو ہم دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں قسم دیتا ہوں، تم میں سے جو میری بات سنے اپنی جگہ سے نہ ہٹے، یہاں تک کہ میں اسے اجازت دے دوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم کے ایک آدمی سے کہا: اے فلاں! اس کے ایک اونٹ پر جَو لاد دو اور ایک اونٹ پر کھجور، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جا سکتے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4780]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے۔ جب آپ کھڑے ہوتے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ ایک دن آپ کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، حتیٰ کہ جب آپ مسجد کے درمیان پہنچے تو ایک آدمی آپ کو ملا۔ اس نے پیچھے سے آپ کی چادر پکڑ کر کھینچی۔ آپ کی چادر کھردری سی تھی، اس لیے آپ کی گردن سرخ ہو گئی۔ وہ شخص کہنے لگا: اے محمد! مجھے یہ دو اونٹ (غلہ) لاد دیجیے۔ آپ کون سا اپنے یا اپنے باپ کے مال سے دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں واقعتاً اپنے مال سے نہیں دیتا اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں (کہ ایسا غلط اعتقاد رکھوں) لیکن میں تجھے کچھ بھی نہیں دوں گا حتیٰ کہ تو مجھے گردن سے چادر کھینچنے کا قصاص دے۔ اس اعرابی نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو قصاص نہیں دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ایسے ہی فرمایا۔ وہ (اعرابی) ہر دفعہ یہی کہتا تھا: اللہ کی قسم! میں آپ کو قصاص نہیں دوں گا۔ ہم نے اعرابی کی باتیں سنیں تو ہم تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آتے دیکھا تو فرمایا: جو بھی شخص میری آواز سنتا ہے، میں اسے قسم دیتا ہوں کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت نہ کرے حتیٰ کہ میں اسے اجازت دوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے کہا: ارے! اس کو ایک اونٹ پر جو اور دوسرے اونٹ پر خشک کھجوریں لاد دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے لوگوں سے) فرمایا: جاؤ۔ چلے جاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4780]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 1(4775)، (تحفة الأشراف: 14801)، مسند احمد (2/288) (ضعیف) (اس کے راوی ہلال بن ابی ہلال لین الحدیث ہیں، لیکن اعرابی کے آپ کو پکڑ کر کھینچنے کا قصہ صحیح بخاری (لباس 18) میں انس رضی الله عنہ سے مروی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن قصة الأعرابي وجبذه وأمره صلى الله عليه وسلم له بعطاء في ق
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4775) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں