سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: قَطْعِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ مِنَ السَّارِقِ
باب: چور کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4981
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ:" اقْطَعُوهُ" فَقُطِعَ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ:" اقْطَعُوهُ" فَقُطِعَ، فَأُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ:" اقْطَعُوهُ"، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ:" اقْطَعُوهُ"، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، قَالَ:" اقْتُلُوهُ" , قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَد النَّعَمِ وَحَمَلْنَاهُ فَاسْتَلْقَى عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ كَشَّرَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَانْصَدَعَتِ الْإِبِلُ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ فَقَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ , ثُمَّ رَمَيْنَا عَلَيْهِ بِالْحِجَارَةِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ , وَمُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اس نے صرف چوری کی ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”(اس کا دایاں ہاتھ) کاٹ دو“، تو کاٹ دیا گیا، پھر وہ دوسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا، پھر وہ تیسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا: ”(اس کا دایاں پاؤں) کاٹ دو“، پھر وہ چوتھی بار لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا: ”(اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو“، وہ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم اسے «مربد نعم» (جانور باندھنے کی جگہ) کی جانب لے کر چلے اور اسے لادا، تو وہ چت ہو کر لیٹ گیا پھر وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل بھاگا تو اونٹ بدک گئے، لوگوں نے اسے دوبارہ لادا اس نے پھر ایسا ہی کیا پھر تیسری بار لادا پھر ہم نے اسے پتھر مارے اور اسے قتل کر دیا، اور ایک کنویں میں ڈال دیا پھر اوپر سے اس پر پتھر مارے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، مصعب بن ثابت حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4981]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(اس کا دایاں ہاتھ) کاٹ دو۔“ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر اسے دوبارہ (چوری کرنے پر) لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کا بایاں پاؤں کاٹ دو۔“ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا۔ تیسری مرتبہ پھر اسے لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(اس کا دایاں پاؤں) کاٹ دو۔“ پانچویں بار پھر اسے لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اسے اٹھا کر اونٹوں کے ایک باڑے میں لے گئے تو وہ چت لیٹ گیا۔ پھر اچانک اپنے (کٹے ہوئے) ہاتھوں اور پاؤں پر بھاگ اٹھا۔ اونٹ (ڈر کر) بدکنے لگے۔ لوگوں نے بھاگ کر دوبارہ اس کو پکڑ لیا۔ اس نے پھر اسی طرح کیا۔ پھر تیسری دفعہ اس کو پکڑا تو ہم نے اس کو پتھر مار مار کر قتل کر دیا۔ پھر ہم نے اسے ایک کنویں میں ڈال دیا اور اوپر سے پتھر پھینک دیے۔ ابو عبد الرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے اور مصعب بن ثابت حدیث میں قوی (اور مضبوط) نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 20 (4410)، (تحفة الأشراف: 3082) (حسن) (اس کے راوی ”مصعب“ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن یہ حکم منسوخ ہے)»
وضاحت: ۱؎: لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن منسوخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن