🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ: حَدِّ الْبُلُوغِ وَذِكْرِ السِّنِّ الَّذِي إِذَا بَلَغَهَا الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ أُقِيمَ عَلَيْهِمَا الْحَدُّ
باب: بلوغت کی حد اور عمر کے اس مرحلے کا ذکر جس میں مرد اور عورت پر حد قائم کی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4984
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" كُنْتُ فِي سَبْيِ قُرَيْظَةَ , وَكَانَ يُنْظَرُ فَمَنْ خَرَجَ شِعْرَتُهُ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ تَخْرُجْ اسْتُحْيِيَ وَلَمْ يُقْتَلْ".
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھا، وہ لوگ دیکھتے جس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوتے، اسے قتل کر دیا جاتا، اور جس کے بال نہ اگے ہوتے، اسے چھوڑ دیا جاتا اور قتل نہ کیا جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4984]
حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں شامل تھا۔ (فیصلے کے مطابق) دیکھا جاتا تھا کہ جس قیدی کے زیر ناف بال اگے ہوتے تھے، اسے قتل کر دیا جاتا تھا اور جس کے زیر ناف بال نہیں اگے ہوتے تھے، اسے زندہ چھوڑ دیا جاتا تھا اور قتل نہیں کیا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4984]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3460 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں