صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْخَلاَءِ:
باب: بیت الخلاء جانے کے وقت کیا دعا پڑھنی چاہیے؟
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ"، تَابَعَهُ ابْنُ عَرْعَرَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ: إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ، وَقَالَ مُوسَى، عَنْ حَمَّادٍ، إِذَا دَخَلَ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ.
ہم سے آدم نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے عبدالعزیز بن صہیب کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (قضائے حاجت کے لیے) بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ (دعا) پڑھتے «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 142]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا جاتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”اے اللہ! میں ناپاک چیزوں اور ناپاکیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ ابن عرعرہ نے اس حدیث کی شعبہ سے بیان کرنے میں متابعت کی ہے اور غندر نے شعبہ سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: جب آپ بیت الخلا کے لیے آتے ( «دَخَلَ» کے بجائے «أَتَى» کا لفظ استعمال کیا) اور موسیٰ نے حماد کے واسطے سے بیان کیا: جب داخل ہوتے اور سعید بن زید نے کہا: ہمیں عبدالعزیز نے بیان کیا کہ جب آپ بیت الخلا جانے کا ارادہ فرماتے (تو مذکورہ دعا پڑھتے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة