سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: تَطْوِيلِ الْجُمَّةِ
باب: لمبے بال رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5069
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي جُمَّةٌ، قَالَ:" ذُبَابٌ" , وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ , وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میرے سر پر لمبے بال تھے، آپ نے فرمایا: ”نحوست ہے“، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مراد تم نہیں تھے، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5069]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میرے لمبے لمبے بال تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ) منحوس چیز ہے۔“ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہہ رہے ہیں۔ میں اٹھا اور اپنے بال کاٹ کر پھر حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے نہیں کہا تھا۔ ویسے یہ زیادہ اچھی حالت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5055 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن