🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. بَابُ: وَصْلِ الشَّعْرِ بِالْخِرَقِ
باب: بالوں میں دوسرے بال جوڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5095
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریب کاری (یعنی اپنے بالوں میں دوسرے بال جوڑنے) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5095]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعلی بال لگانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3488)، اللباس 83 (5938)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2127)، (تحفة الأشراف: 11418)، مسند احمد (4/91، 93، 101)، ویأتی عند المؤلف بأرقام 5248-5250 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5096
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَعَهُ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ كُبَبِ النِّسَاءِ مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: مَا بَالُ الْمُسْلِمَاتِ يَصْنَعْنَ مِثْلَ هَذَا؟! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَادَتْ فِي رَأْسِهَا شَعْرًا لَيْسَ مِنْهُ فَإِنَّهُ زُورٌ تَزِيدُ فِيهِ".
سعید مقبری کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو منبر پر دیکھا ان کے ساتھ ان کے ہاتھوں میں عورتوں کے بالوں کی ایک چوٹی تھی، انہوں نے کہا: کیا حال ہے مسلمان عورتوں کا جو ایسا کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس عورت نے اپنے سر میں کوئی ایسا بال شامل کیا جو اس میں کا نہیں ہے تو وہ فریب کرتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5096]
حضرت سعید مقبری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا، حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما منبر (مدینہ) پر بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھ میں جعلی بالوں کا ایک گچھا تھا۔ انہوں نے فرمایا: کیا بات ہے کہ مسلمان عورتیں یہ کام کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو عورت اپنے سر کے بالوں میں اور بالوں کا اضافہ کرے تو یہ جعلی سازی ہے جس سے وہ اضافہ کر رہی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11417) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں