سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: مَا يُكْرَهُ لِلنِّسَاءِ مِنَ الطِّيبِ
باب: عورتوں کے لیے ناپسندیدہ اور مکروہ خوشبو کا بیان۔
حدیث نمبر: 5129
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا مِنْ رِيحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 7 (1473)، سنن الترمذی/الأدب 35 (الاستئذان 69) (2786)، (تحفة الأشراف: 9023)، مسند احمد (4/394، 400، 407، 413، 414، 418) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ عطر مہک والا ہو، اور مہک والا عطر لگا کر باہر نکلنا عورتوں کے لیے حرام ہے، گھر میں شوہر کے لیے لگا سکتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن