سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
114. بَابُ: ذِكْرِ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا
باب: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب دیئے جانے والوں کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5366
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ"، وَقَالَ أَحْمَدُ:" الْمُصَوِّرِينَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب والے تصویر بنانے والے لوگ ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5366]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو (جاندار چیزوں کی) تصویریں بناتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 89 (5950)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2109)، (تحفة الأشراف: 9575)، مسند احمد (1/375، 426) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5367
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" اسْتَأْذَنَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: ادْخُلْ، فَقَالَ: كَيْفَ أَدْخُلُ وَفِي بَيْتِكَ سِتْرٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَإِمَّا أَنْ تُقْطَعَ رُءُوسُهَا، أَوْ تُجْعَلَ بِسَاطًا يُوطَأُ، فَإِنَّا مَعْشَرَ الْمَلَائِكَةِ لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، تو آپ نے فرمایا: اندر آئیے، وہ بولے: میں کیسے اندر آؤں؟ آپ کے گھر میں تو ایسا پردہ لٹکا ہے جس میں تصویریں ہیں، لہٰذا یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیجئیے، یا پھر ان کا بچھونا بنا دیجئیے تاکہ وہ روندا جائے۔ کیونکہ ہم فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5367]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آ جائیں۔“ انہوں نے کہا: میں کیسے داخل ہو سکتا ہوں جب کہ آپ کے گھر میں ایک پردہ ہے جس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں؟ یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیں یا اسے چٹائی بنا کر بچھا لیں۔ ہم فرشتے کسی گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 48 (4158)، سنن الترمذی/الأدب 44 (الاستئذان 78) (2807)، (تحفة الأشراف: 14345)، مسند احمد (2/305، 308، 390، 478) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح