سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: إِذَا حَكَّمُوا رَجُلاً فَقَضَى بَيْنَهُمْ
باب: جب کسی کو حکم اور ثالث بنائیں اور وہ فیصلہ کرے تو اس کا حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 5389
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعَهُ وَهُمْ يَكْنُونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ، وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ؟"، فَقَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ، قَالَ:" مَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا , فَمَا لَكَ مِنَ الْوُلْدِ؟" , قَالَ لِي: شُرَيْحٌ , وَعَبْدُ اللَّهِ، وَمُسْلِمٌ، قَالَ:" فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟" قَالَ: شُرَيْحٌ، قَالَ:" فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ" , فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ.
ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ نے لوگوں کو سنا کہ وہ ہانی کو ابوالحکم کی کنیت سے پکارتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ان سے فرمایا: ”حکم تو اللہ ہے اور حکم کرنا بھی اسی کا کام ہے“، وہ بولے: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی چیز میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس چلے آتے ہیں، میں ان کے درمیان فیصلے کرتا ہوں اور دونوں فریق رضامند ہو جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے، تمہارے کتنے لڑکے ہیں؟“ وہ بولے: شریح، عبداللہ اور مسلم، آپ نے فرمایا: ”ان میں بڑا کون ہے؟“ وہ بولے: شریح، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم اب سے ابوشریح ہو“، پھر آپ نے ان کے لیے اور ان کے بیٹے کے لیے دعا کی۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5389]
حضرت ہانی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو انہیں ابو الحکم کی کنیت سے پکارتے سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”اصل حکم تو اللہ تعالیٰ ہے اور اسی کا فیصلہ چلتا ہے، پھر تجھے ابو الحکم کیوں کہا جاتا ہے؟“ انہوں نے کہا: میری قوم میں جب کوئی اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں، میں ان میں فیصلہ کر دیتا ہوں جسے وہ دونوں فریق پسند کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بہت اچھی بات ہے، تیرے کتنے لڑکے ہیں؟“ میں نے کہا: شریح، عبد اللہ اور مسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری کنیت آج سے ابو شریح ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے دعا فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔیدب70(4955) (تحفة الأشراف: 11725) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن