سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَجْتَنِبَهُ
باب: حاکم کو کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 5408
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كَتَبَ أَبِي , وَكَتَبْتُ لَهُ: إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضِي سِجِسْتَانَ: أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ".
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھوایا تو میں نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس لکھا وہ سجستان کے قاضی تھے، تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5408]
حضرت عبد الرحمن بن ابو بکرہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھ سے (میرے بھائی) عبید اللہ بن ابو بکرہ کو جو سجستان (سیستان) کے قاضی تھے، یہ لکھوایا کہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں (فریقین) کے درمیان فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”کوئی شخص غصے کی حالت میں دو آدمیوں (فریقین) کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔنحکام 13 (7158)، صحیح مسلم/الِٔقضیة 7 (1717)، سنن ابی داود/الٔدقضیة 9 (3589)، سنن الترمذی/الْٔحکام 7 (1334)، سنن ابن ماجہ/الٔرحکام 4 (2316)، (تحفة الأشراف: 11676)، مسند احمد (5/36، 37، 38، 46، 52)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5423 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه