سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: تَوْجِيهِ الْحَاكِمِ إِلَى مَنْ أُخْبِرَ أَنَّهُ، زَنَى
باب: حاکم اس شخص کو بلوا سکتا ہے جس کے بارے میں اس کو خبر ہے کہ اس نے زنا کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5414
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ , فَقَالَ:" مِمَّنْ؟" قَالَتْ: مِنَ الْمُقْعَدِ الَّذِي فِي حَائِطِ سَعْدٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ , فَأُتِيَ بِهِ مَحْمُولًا فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاعْتَرَفَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِثْكَالٍ , فَضَرَبَهُ وَرَحِمَهُ لِزَمَانَتِهِ وَخَفَّفَ عَنْهُ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے (مرسلاً) ۱؎ روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت لائی گئی، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کس کے ساتھ؟“ وہ بولی: اپاہج سے جو سعد رضی اللہ عنہ کے باغ میں رہتا ہے، آپ نے اسے بلا بھیجا چنانچہ وہ لاد کر لایا گیا اور اسے آپ کے سامنے رکھا گیا، پھر اس نے اعتراف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے خوشے منگا کر اسے مارا اور اس کے لنجے پن کی وجہ سے اس پر رحم کیا اور اس پر تخفیف کی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5414]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس کے ساتھ؟“ کسی نے کہا: اس اپاہج کے ساتھ جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے گھر میں رہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا۔ اس کو اٹھا کر لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا۔ اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی شاخ منگوائی اور اس کو پیٹا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اس کے اپاہج ہونے کی وجہ سے ترس کیا اور اس کو ہلکی سزا دی۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 140)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود 34 (4472)، سنن ابن ماجہ/الحدود 18 (2574)، مسند احمد (5/22222) (کلھم بزیادة ”سعید بن سعد بن عبادة“ أو ”بعض أصحاب النبی ﷺ“ بعد ”أبی أمامة“) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نسائی کی روایت مرسل ہے، لیکن دیگر لوگوں کے یہاں ”سعید بن سعد بن عبادہ (ایک چھوٹے صحابی) یا: بعض اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ موجود ہے، اس لیے حدیث متصل مرفوع صحیح ہے۔ ۲؎: چونکہ وہ غیر شادی شدہ تھا اس لیے اس کو رجم کی سزا نہیں دی گئی، اور کوڑے میں بھی تخفیف سے کام لیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح