🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ: مَسِيرِ الْحَاكِمِ إِلَى رَعِيَّتِهِ لِلصُّلْحِ بَيْنَهُمْ
باب: صلح کرانے کے لیے حاکم کے رعایا کے پاس جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5415
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ: وَقَعَ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلَامٌ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ , فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَانْتُظِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاحْتُبِسَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ صَفَّحُوا , وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ تَصْفِيحَهُمُ الْتَفَتَ , فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي يَدَيْهِ، ثُمَّ نَكَصَ الْقَهْقَرَى , وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ , قَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ؟" قَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ نَبِيِّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" مَا لَكُمْ إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ صَفَّحْتُمْ , إِنَّ ذَلِكَ لِلنِّسَاءِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلوں کے درمیان تکرار ہوئی یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو پتھر مارنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کرانے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور آپ کا انتظار کیا اور رکے رہے، پھر اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو دیکھا تو (بتانے کے لیے) تالی بجا دی۔ (ابوبکر نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے) پھر جب انہوں نے ان سب کی تالی کی آواز سنی تو مڑے، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے وہیں رہنے کا اشارہ کیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: تمہیں وہیں رکنے سے کس چیز نے روکا؟ وہ بولے: یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ ابوقحافہ کے بیٹے کو اپنے نبی کے آگے دیکھے، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آتی ہے تو تالی بجانے لگتے ہو، یہ تو عورتوں کے لیے ہے، تم میں سے کسی کو جب کوئی بات پیش آئے تو وہ «سبحان اللہ» کہے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5415]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا حتیٰ کہ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھر وغیرہ بھی پھینکے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے (اذان) کہی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا گیا لیکن آپ کو زیادہ دیر ہو گئی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے (اور جماعت شروع کرا دی)۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر توجہ نہیں کرتے تھے لیکن جب انہوں نے بہت زیادہ تالیوں کی آواز سنی تو وہ متوجہ ہوئے۔ اچانک ان کی نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی، تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم ترین عزت افزائی پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے) اپنے ہاتھ اٹھائے، پھر الٹے پاؤں پیچھے آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل فرمائی تو (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: تم اپنی جگہ کیوں نہ کھڑے رہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ابوقحافہ کے بیٹے کو اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑا دیکھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا وجہ ہے جب تمہیں نماز میں کوئی مشکل پیش آتی ہے تو تم تالیاں بجانے لگ جاتے ہو! یہ تو عورتوں کے لیے ہے۔ جس مرد کو نماز میں کوئی مشکل پیش آئے تو وہ «سُبْحَانَ اللّٰہِ» اللہ پاک ہے کہے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4693)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل فی الصلاة 3 (1201)، 16 (1218)، الصلح 1 (2690)، صحیح مسلم/الصلاة 22 (421)، مسند احمد (5/330، 331، 236) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں