سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: إِشَارَةِ الْحَاكِمِ عَلَى الْخَصْمِ بِالْعَفْوِ
باب: حاکم فریقین میں کسی کو معاف کر دینے کا مشورہ دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5417
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ" , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ:" أَتَعْفُو" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ" , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ:" أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب قاتل کو مقتول کا ولی ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتا ہوا لایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: ”کیا تم معاف کر دو گے؟“ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا دیت لو گے؟“ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے قتل کرو گے؟“ کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“ (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا معاف کر دو گے؟“ کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لو گے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اسے قتل کرو گے؟“ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”لے جاؤ اسے“ (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا معاف کر دو گے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”دیت لو گے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اسے قتل کرو گے؟“ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”لے جاؤ اسے“ (اور قتل کرو) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا: ”اگر تم اسے معاف کر دو تو یہ اپنے گناہ اور تمہارے (مقتول) ساتھی کے گناہ سمیٹ لے گا“، یہ سن کر اس نے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے دیکھا کہ وہ اپنی رسی کھینچ رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5417]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب ایک مقتول کا ولی قاتل کو چمڑے کی تندی کے ساتھ جکڑ کر لایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: ”کیا تو معاف کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قتل کرے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اس کو لے جا۔“ جب وہ اس کو لے کر چل پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”معاف کرے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قتل ہی کرے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے لے جا۔“ جب وہ لے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: ”معاف کرے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ضرور قتل ہی کرے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اسے معاف کر دے تو وہ اپنے گناہ اور تیرے مقتول کے گناہ کا ذمہ دار ہو گا۔“ یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا اور چھوڑ دیا۔ میں نے دیکھا، وہ اپنی تندی (رسی) کو اسی طرح گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن