سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: إِشَارَةِ الْحَاكِمِ بِالرِّفْقِ
باب: حاکم پہلے نرمی کرنے کے لیے حکم دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5418
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلَا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ" , فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ"، قَالَ الزُّبَيْرُ: إِنِّي أَحْسَبُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ سورة النساء آية 65 الْآيَةَ.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کی نالیوں کے سلسلے میں جھگڑا کیا، (جن سے وہ باغ کی سینچائی کرتے تھے) اور مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے، انصاری نے کہا: پانی کو بہتا چھوڑ دو، تو انہوں نے انکار کیا، ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: ”زبیر! سینچائی کر لو پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو“، انصاری کو غصہ آ گیا، وہ بولا: اللہ کے رسول! وہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں نا؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”زبیر! سینچائی کرو، اور پانی مینڈوں تک روک لو“، زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ آیت: «فلا وربك لا يؤمنون» ”نہیں، تمہارے رب کی قسم! وہ مومن نہیں ہوں گے“ (النساء: ۶۵) اسی سلسلے میں اتری۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5418]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ ایک انصاری صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے (کے پانی) کے بارے میں جھگڑ پڑے جو وہ کھجور کے درختوں کو لگاتے تھے۔ اس انصاری نے کہا کہ پانی آگے گزرنے دو، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔ فریقین یہ جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زبیر! تھوڑا تھوڑا پانی لگا لو، پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو۔“ انصاری نے غصے میں آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اس لیے کہ یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زبیر! پانی لگاؤ اور لگتا رہنے دو حتیٰ کہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔“ حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”آپ کے رب تعالیٰ کی قسم! یہ لوگ مومن نہیں بن سکتے ........الخ“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المساقات 6 (2359، 2360)، صحیح مسلم/الفضائل 36 (2357)، سنن ابی داود/الِٔقضیة 31 (3637)، سنن الترمذی/الٔؤحکام 26 (1363)، تفسیر سورة النساء (3027)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 2 (15)، (تحفة الأشراف: 5275)، مسند احمد (4/4) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه