🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. بَابُ: شَفَاعَةِ الْحَاكِمِ لِلْخُصُومِ قَبْلَ فَصْلِ الْحُكْمِ
باب: فیصلہ سے پہلے حاکم کسی فریق کے حق میں سفارش کرے تو اس کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5419
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا , يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ:" يَا عَبَّاسُ , أَلَا تَعْجَبْ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا"، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْمُرُنِي؟، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا شَفِيعٌ"، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا، گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس (بریرہ) کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں، اور ان کے آنسو ڈاڑھی پر بہہ رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: عباس! کیا آپ کو حیرت نہیں ہے کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث سے کس قدر نفرت کرتی ہے؟، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (بریرہ) سے فرمایا: اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاتی (تو بہتر ہوتا) اس لیے کہ وہ تمہارے بچے کا باپ ہے، وہ بولیں: اللہ کے رسول! کیا مجھے آپ حکم دے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، میں تو سفارش کر رہا ہوں، وہ بولیں: پھر تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5419]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند حضرت مغیث رضی اللہ عنہ غلام تھا، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اسے بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے گھومتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، وہ رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر گر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! کیا آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ مغیث کو بریرہ سے کس قدر محبت ہے اور بریرہ کو مغیث سے کس قدر نفرت ہے؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اگر تم اپنے خاوند کو قبول کر لو (تو بہتر ہے)، آخر وہ تمہارے بچوں کا باپ ہے۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: پھر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 16 (5283)، سنن ابی داود/الطلاق 19 (2231)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 29 (2077)، (تحفة الأشراف: 6048)، مسند احمد (1/215) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مغیث اور بریرہ (رضی اللہ عنہما) کے معاملہ میں عدالتی قانونی فیصلہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزادی مل جانے کے بعد مغیث کے نکاح میں نہ رہنے کا حق حاصل ہے مگر اس عدالتی فیصلہ سے پہلے بریرہ رضی اللہ عنہا سے قانوناً نہیں اخلاقی طور پر مغیث کے نکاح میں باقی رہنے کی سفارش کی، یہی باب سے مناسبت ہے، اور اس طرح کی سفارش صرف ایسے ہی معاملات میں کی جا سکتی ہے، جس میں مدعی کو اختیار ہو (جیسے بریرہ کا معاملہ اور قصاص ودیت والا معاملہ وغیرہ) لیکن چوری و زنا کے حدود کے معاملے میں اس طرح کی سفارش نہیں کی جا سکتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں