صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَنْ أَسْرَعَ نَاقَتَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ:
باب: جس نے مدینہ طیبہ کے قریب پہنچ کر اپنی سواری تیز کر دی (تاکہ جلد سے جلد اس پاک شہر میں داخلہ نصیب ہو)۔
حدیث نمبر: 1802
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ نَاقَتَهُ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةً حَرَّكَهَا" , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: زَادَ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ حُمَيْدٍحَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جُدُرَاتِ: تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے حمید طویل نے خبر دی انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے مدینہ واپس ہوتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے، کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ حارث بن عمیر نے حمید سے یہ لفظ زیادہ کئے ہیں کہ ”مدینہ سے محبت کی وجہ سے سواری تیز کر دیتے تھے۔“ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے (درجات کے بجائے) «جدرات» کہا، اس کی متابعت حارث بن عمیر نے کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1802]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے مدینہ طیبہ واپس آتے اور مدینہ کی راہوں کو دیکھتے تو (فرطِ شوق سے) اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے، اگر کوئی اور سواری ہوتی تو اسے بھی ایڑی لگاتے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ حارث بن عمیر نے حمید ہی کے طریق سے اس روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کی محبت کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔ اسماعیل نے حمید سے «دَرَجَاتِ» کے بجائے «جَدَرَاتِ» کے الفاظ نقل کیے ہیں (اور) یہ الفاظ بیان کرنے میں حارث بن عمیر نے اسماعیل کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة