🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَمَالِكٍ , وَالشَّافِعِيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ایک بیوی نے ایک لگن (ٹب) سے (پانی لے کر) غسل کیا، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس (بچے ہوئے پانی) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 65]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة 35 (68) سنن النسائی/المیاہ 1 (326) (بلفظ ”لاینجسہ شیٔ“ 33 (370، 371) (تحفة الأشراف: 6103) مسند احمد (1/243) سنن الدارمی/الطہارة 57 (761) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے طہارت (غسل اور وضو) حاصل کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (370)
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / د 68 ، ن 326 ، جه 370
سماك ضعيف عن عكرمة وصحيح الحديث عن غيره إذا حدّث قبل اختلاطه (انظر ضعيف سنن أبي داود : 68) وحديث مسلم (323) يغني عنه .

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں