🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ لاَ يُعِينُ الْمُحْرِمُ الْحَلاَلَ فِي قَتْلِ الصَّيْدِ:
باب: شکار کرنے میں احرام والا غیر محرم کی کچھ بھی مدد نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1823
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَاحَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ عَلَى ثَلَاثٍ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَاحَةِ، وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ، فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ يَعْنِي وَقَعَ سَوْطُهُ، فَقَالُوا: لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ إِنَّا مُحْرِمُونَ، فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ، فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُوا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَأْكُلُوا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَمَامَنَا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كُلُوهُ حَلَالٌ"، قَالَ لَنَا عَمْرٌو: اذْهَبُوا إِلَى صَالِحٍ فَسَلُوهُ عَنْ هَذَا وَغَيْرِهِ، وَقَدِمَ عَلَيْنَا هَاهُنَا.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے صالح بن کیسان نے بیان کیا، ان سے ابومحمد نے، ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے غلام نافع نے، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے تین منزل دور مقام قاحہ میں تھے۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا کہ ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہا ہم سے صالح بن کیسان نے بیان کیا، ان سے ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام قاحہ میں تھے، بعض تو ہم میں سے محرم تھے اور بعض غیر محرم۔ میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے ہیں، میں نے جو نظر اٹھائی تو ایک گورخر سامنے تھا، ان کی مراد یہ تھی کہ ان کا کوڑا گر گیا، (اور اپنے ساتھیوں سے اسے اٹھانے کے لیے انہوں نے کہا)، لیکن ساتھیوں نے کہا کہ ہم تمہاری کچھ بھی مدد نہیں کر سکتے کیونکہ ہم محرم ہیں) اس لیے میں نے وہ خود اٹھایا اس کے بعد میں اس گورخر کے نزدیک ایک ٹیلے کے پیچھے سے آیا اور اسے شکار کیا، پھر میں اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لایا، بعض نے تو یہ کہا کہ (ہمیں بھی) کھا لینا چاہئے لیکن بعض نے کہا کہ نہیں کھانا چاہیے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ آپ ہم سے آگے تھے، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے بتایا کہ کھا لو یہ حلال ہے۔ ہم سے عمرو بن دینار نے کہا کہ صالح بن کیسان کی خدمت میں حاضر ہو کر اس حدیث اور اس کے علاوہ کے متعلق پوچھ سکتے ہو اور وہ ہمارے پاس یہاں آئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1823]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ قاحہ میں تھے جو مدینہ سے تین منزل پر ہے۔ ہم میں سے بعض محرم تھے اور کچھ احرام کے بغیر تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ کوئی چیز دیکھ رہے ہیں۔ میں نے نظر اٹھائی تو ایک گاؤخر کو دیکھا (میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا، نیزہ اور کوڑا ہاتھ میں لیا) تو مجھ سے کوڑا گر گیا (میں نے کہا مجھے کوڑا اٹھا دو) انہوں نے کہا: ہم بحالتِ احرام ہیں اس لیے ہم تیری مدد نہیں کر سکتے، چنانچہ میں نے خود اس کو پکڑ کر اٹھایا۔ پھر میں ٹیلے کے پیچھے سے گاؤخر کے پاس آیا اور اسے زخمی کر دیا۔ جب میں اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو ان میں سے کچھ نے کہا: اسے تناول کرو، جبکہ بعض کہنے لگے: اسے نہ کھاؤ، اس لیے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ہم سے کچھ آگے تھے۔ میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: کھاؤ، یہ حلال ہے۔ ہمیں عمرو بن دینار نے کہا کہ تم صالح بن کیسان کے پاس جاؤ، اس حدیث اور اس کے علاوہ دیگر احادیث کے متعلق ان سے پوچھو کیونکہ وہ ہمارے ہاں (مکہ) آئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1823]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں