🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ لاَ يُشِيرُ الْمُحْرِمُ إِلَى الصَّيْدِ لِكَيْ يَصْطَادَهُ الْحَلاَلُ:
باب: غیر محرم کے شکار کرنے کے لیے احرام والا شکار کی طرف اشارہ بھی نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1824
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجُوا مَعَهُ، فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ: خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى نَلْتَقِيَ، فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ إِلَّا أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى الْحُمُرِ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، وَقَالُوا: أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ؟ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا، وَقَدْ كَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا، ثُمَّ قُلْنَا: أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ! فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا، قَالَ: أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا، أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن موہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد ابوقتادہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج کا) ارادہ کر کے نکلے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی ایک جماعت کو جس میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ ہدایت دے کر راستے سے واپس بھیجا کہ تم لوگ دریا کے کنارے کنارے ہو کر جاؤ، (اور دشمن کا پتہ لگاؤ) پھر ہم سے آ ملو۔ چنانچہ یہ جماعت دریا کے کنارے کنارے چلی، واپسی میں سب نے احرام باندھ لیا تھا لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ یہ قافلہ چل رہا تھا کہ کئی گورخر دکھائی دئیے، ابوقتادہ نے ان پر حملہ کیا اور ایک مادہ کا شکار کر لیا، پھر ایک جگہ ٹھہر کر سب نے اس کا گوشت کھایا اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت بھی کھا سکتے ہیں؟ چنانچہ جو کچھ گوشت بچا وہ ہم ساتھ لائے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو عرض کی یا رسول اللہ! ہم سب لوگ تو محرم تھے لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا پھر ہم نے گورخر دیکھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر کے ایک مادہ کا شکار کر لیا، اس کے بعد ایک جگہ ہم نے قیام کیا اور اس کا گوشت کھایا پھر خیال آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا بھی سکتے ہیں؟ اس لیے جو کچھ گوشت باقی بچا ہے وہ ہم ساتھ لائے ہیں۔ آپ نے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو شکار کرنے کے لیے کہا تھا؟ یا کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا؟ سب نے کہا نہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بچا ہوا گوشت بھی کھا لو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1824]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کی نیت سے روانہ ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی آپ کے ہمراہ نکلے۔ آپ نے ان میں سے کچھ لوگوں کو دوسرے راستے سے بھیج دیا، ان میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا: تم سمندر کا کنارہ اختیار کرو حتیٰ کہ ہم آملیں۔ وہ دریا کے کنارے چلتے رہے، جب وہ لوٹے تو ان سب نے احرام باندھ رکھا تھا لیکن حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا، اس دوران میں کہ وہ چل رہے تھے انہوں نے کئی ایک گاؤخر دیکھے۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اچانک ان پر حملہ کیا تو مادہ گاؤخر کو شکار کر لیا۔ ان کے ساتھی سواریوں سے اترے اور اس کا گوشت کھایا پھر کہنے لگے: ہم تو محرم ہیں، کیا ہم اس طرح شکار کا گوشت کھا سکتے ہیں؟ پھر ہم نے اس مادہ گاؤخر کے گوشت سے کچھ بچا ہوا ٹکڑا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے احرام باندھا ہوا تھا جبکہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ احرام کے بغیر تھے، ہم نے کئی ایک گاؤخر دیکھے تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر کے ایک مادہ گاؤخر کا شکار کر لیا۔ ہم اپنی سواریوں سے اترے اور اس کا گوشت کھایا، پھر ہم نے خیال کیا کہ محرم ہو کر شکار کا گوشت کھا رہے ہیں؟ ہم اس میں سے کچھ بچا ہوا گوشت اپنے ساتھ اٹھا لائے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے اسے گاؤخر پر حملہ کرنے کا کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اس کا جو بچا ہوا گوشت ہے وہ بھی کھالو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1824]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں