سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب مَا جَاءَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ
باب: موت کے وقت مومن کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا نَعْرِفُ لِقَتَادَةَ سَمَاعًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ.
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن پیشانی کے پسینہ کے ساتھ مرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن بریدہ سے قتادہ کے سماع کا علم نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 982]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن بریدہ سے قتادہ کے سماع کا علم نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 5 (1829)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 5 (1552)، مسند احمد (5/350، 357، 360)، (تحفة الأشراف: 1992) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مومن موت کی شدت سے دو چار ہوتا ہے تاکہ یہ اس کے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بن جائے، (شدت کے وقت آدمی کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے) یا یہ مطلب ہے کہ موت اسے اچانک اس حال میں پا لیتی ہے کہ وہ رزق حلال اور ادائیگی فرائض میں اس قدر مشغول رہتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ سے تر رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1452)