🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُودِ، وَشَقِّ الْجُيُوبِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ
باب: مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْأَيَامِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ وَضَرَبَ الْخُدُودَ وَدَعَا بِدَعْوَةِ الْجَاهِلِيَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گریبان پھاڑے، چہرہ پیٹے اور جاہلیت کی ہانک پکارے ۱؎ ہم میں سے نہیں“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 35 (1294)، والمناقب 8 (3519)، سنن النسائی/الجنائز 19 (1863)، و21 (1865)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1584) (تحفة الأشراف: 9559)، مسند احمد (1/386، 442) (صحیح) ووأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 38 (1297)، و39 (1298)، والمناقب 8 (3519)، صحیح مسلم/الإیمان 44 (103)، سنن النسائی/الجنائز 17 (1861)، مسند احمد (1/465) من غیر ہذا الوجہ۔»
وضاحت: ۱؎: جاہلیت کی ہانک پکارنے سے مراد بین کرنا ہے، جیسے، ہائے میرے شیر! میرے چاند، ہائے میرے بچوں کو یتیم کر جانے والے عورتوں کے سہاگ اجاڑ دینے والے! وغیرہ وغیرہ کہہ کر رونا۔
۲؎: یعنی ہم مسلمانوں کے طریقے پر نہیں۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کے غیر مسلموں جیسے جزع و فزع کے طور طریقے دیکھ کر اس حدیث کی صداقت کس قدر واضح ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1584)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں