صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابُ التَّنْكِيلِ لِمَنْ أَكْثَرَ الْوِصَالَ:
باب: جو طے کے روزے بہت رکھے اس کو سزا دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q1965
رَوَاهُ أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس کو انس رضی اللہ عنہ نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1965]
حدیث نمبر: 1965
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَأَيُّكُمْ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ، فَقَالَ: لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ، كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل (کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک آدمی نے مسلمانوں میں سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے، اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا، گویا جب صوم و صال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1965]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزوں میں وصال کرنے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے کسی شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص میری طرح ہے! میں رات کو سوتا ہوں تو میرا اللہ مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔“ لیکن جب وہ لوگ وصال سے باز نہ آئے تو آپ نے ان کے ہمراہ ایک دن کچھ نہ کھایا، دوسرے دن بھی کچھ نہ کھایا، پھر عید کا چاند طلوع ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”اگر چاند ظاہر نہ ہوتا تو میں تم سے اور زیادہ وصال کے روزے رکھواتا۔“ گویا آپ نے انہیں سزا دینے کے لیے فرمایا جب وہ وصال کے روزوں سے باز نہ آئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1965]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1966
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ" مَرَّتَيْنِ، قِيلَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار فرمایا، تم لوگ وصال سے بچو! عرض کیا گیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا کہ رات میں مجھے میرا رب کھلاتا اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ پس تم اتنی ہی مشقت اٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1966]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وصال کا روزہ رکھنے سے اجتناب کرو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ایسا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں رات گزارتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے، لیکن تم اتنا ہی کام اپنے ذمے لو جتنی تم میں طاقت ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة