🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. بَابُ الصَّوْمِ آخِرَ الشَّهْرِ:
باب: مہینے کے آخر میں روزہ رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1983
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلَانَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَهُ، أَوْ سَأَلَ رَجُلًا وَعِمْرَانُ يَسْمَعُ، فَقَالَ: يَا أَبَا فُلَانٍ،"أَمَا صُمْتَ سَرَرَ هَذَا الشَّهْرِ؟ قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ يَعْنِي رَمَضَانَ، قَالَ الرَّجُلُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِذَا أَفْطَرْتَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ، لَمْ يَقُلِ الصَّلْتُ أَظُنُّهُ يَعْنِي رَمَضَانَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ ثَابِتٌ: عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ.
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے مطرف نے، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا (مطرف نے یہ کہا کہ) سوال تو کسی اور نے کیا تھا لیکن وہ سن رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوفلاں! کیا تم نے اس مہینے کے آخر کے روزے رکھے؟ ابونعمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ آپ کی مراد رمضان سے تھی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ ثابت نے بیان کیا، ان سے مطرف نے، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (رمضان کے آخر کے بجائے) شعبان کے آخر میں کا لفظ بیان کیا (یہی صحیح ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1983]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا، یا کسی اور شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا جبکہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ سن رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو فلاں! کیا تو نے اس مہینے کے آخر میں روزے نہیں رکھے؟ ابو نعمان نے کہا کہ میرے گمان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے متعلق دریافت کیا، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رمضان کے روزوں سے فارغ ہو جاؤ تو دو دن روزے رکھ لینا۔ (راویِ حدیث) صلت نے رمضان کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ثابت نے مطرف سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے شعبان کے آخر میں روزے نہیں رکھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1983]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں