سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب مَا جَاءَ أَنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا
باب: ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیئے گا؟
حدیث نمبر: 1894
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پلانے والے کو سب سے آخر میں پینا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1894]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 55 (681)، (في سیاق طویل) سنن ابن ماجہ/الأشربة 26 (3434)، (تحفة الأشراف: 12086)، و مسند احمد (5/303) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3434)